وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ ماہ دورۂ امریکا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اردو پوائنٹ کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ اور وزیراعظم ہاؤس دورے کے شیڈول، جنرل اسمبلی سے متعلق مصروفیات اور اجلاس کے موقع پر ممکنہ دوطرفہ ملاقاتوں کے لیے رابطہ کاری کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں شرکت کو متوقع بتایا گیا ہے اور مکمل سرکاری پروگرام ابھی حتمی طور پر جاری نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس 8 ستمبر سے شروع ہونا ہے جبکہ عمومی مباحثہ 22 ستمبر سے متوقع ہے۔ پاکستانی وفد کی سطح، وزیراعظم کی روانگی اور واپسی کی تاریخ، تقریر کا حتمی وقت اور تمام ملاقاتوں کی تصدیق باضابطہ شیڈول سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ موجودہ خبر تیاری کے مرحلے سے متعلق ہے، مکمل دورہ پروگرام کے اعلان سے نہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سے توقع ہے کہ وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور پاکستان کے علاقائی و بین الاقوامی مؤقف کو جنرل اسمبلی میں پیش کریں گے۔ سربراہی سطح کے اجلاسوں کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی زیرِ غور ہیں۔ ایسی ملاقاتیں عموماً میزبان اور دونوں وفود کے شیڈول کی حتمی ہم آہنگی سے طے ہوتی ہیں، اس لیے ابتدائی رابطوں کو طے شدہ ملاقات نہیں کہا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کا ذکر بھی رپورٹ میں آیا ہے، لیکن اسے توقع یا کوشش کے طور پر بیان کیا گیا ہے، تصدیق شدہ پروگرام کے طور پر نہیں۔ اگر یہ ملاقات طے ہوتی ہے تو دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ تاہم موضوعات کی کوئی حتمی سرکاری فہرست جاری نہیں ہوئی اور نہ ہی ملاقات کا وقت بتایا گیا ہے۔

جنرل اسمبلی کا اجلاس پاکستان کے لیے کثیرالجہتی سفارت کاری، ترقیاتی ترجیحات اور علاقائی سلامتی کے مؤقف کو پیش کرنے کا اہم موقع ہوتا ہے۔ دورے کے دوران اقوام متحدہ کے عہدیداروں، مختلف ممالک کے سربراہان اور مالی یا ترقیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں ممکن ہوتی ہیں۔ اس وقت صرف تیاریوں کی خبر ہے، اس لیے کسی معاہدے، مشترکہ اعلامیے یا سفارتی نتیجے کا پیشگی دعویٰ شامل نہیں کیا جا رہا۔

آئندہ قابلِ تصدیق پیش رفت میں دفتر خارجہ کا باضابطہ دورہ پروگرام، جنرل اسمبلی کی مقررہ تقریر، ملاقاتوں کی تصدیق اور دورے کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے شامل ہوں گے۔ اردو ہیڈلائنز انہی دستاویزی اعلانات کی بنیاد پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا اور غیر حتمی امکانات کو طے شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک