سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ وسیع قومی بحث کا متقاضی ہے اور اس پر جلدبازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اردو پوائنٹ کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا مسائل کا مکمل حل نہیں، قانون کی حکمرانی اور مؤثر انتظامی نظام بھی ضروری ہیں۔ یہ سابق وزیراعظم کا سیاسی و پالیسی موقف ہے، کوئی نافذ شدہ سرکاری فیصلہ نہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے موجودہ وفاقی اور صوبائی نظام کی کارکردگی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ملک کا نظام مؤثر طور پر نہیں چل رہا۔ یہ سیاسی تجزیہ ان سے منسوب ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر قانون کی حکمرانی موجود نہ ہو تو بڑی تعداد میں نئے صوبے قائم کرنے سے بھی بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق صوبوں کی تشکیل پر مکمل مباحثہ، آئینی غور اور انتظامی تیاری کے بغیر فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔
پروگرام میں فواد چوہدری نے بھی سیاسی جماعتوں، شخصی سیاست، اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی اختیارات پر اپنے خیالات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل صوبائی سطح پر وزرائے اعلیٰ کے پاس مرتکز ہوئے جبکہ اختیارات نچلی سطح تک مکمل طور پر منتقل نہیں ہوئے۔ یہ ان کا موقف ہے؛ کسی آئینی عدالت، آڈٹ یا باضابطہ کمیشن کی تازہ حتمی رپورٹ نہیں۔
آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی و مالی ذمہ داری منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کی بنیاد دیتا ہے۔ اس شق کے عملی نفاذ کی شکل صوبائی قوانین اور نظاموں کے مطابق مختلف رہی ہے۔ نئے صوبوں کی بحث میں آبادی، رقبہ، مالی وسائل، نمائندگی، زبان، انتظامی صلاحیت اور مقامی حکومت جیسے کئی عوامل شامل ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی انتظامی تبدیلی کو ہر مسئلے کا فوری حل قرار دینا مشکل ہے۔
سابق وزیراعظم کے بیان میں کسی خاص نئے صوبے کی سرحد، دارالحکومت، مالی حصہ یا قیام کی مدت تجویز نہیں کی گئی۔ نہ ہی زیرِ جائزہ رپورٹ میں پارلیمان کے سامنے کسی نئی آئینی ترمیم کی منظوری کا ذکر ہے۔ اس وجہ سے خبر کو سیاسی مباحثے اور احتیاط کی اپیل تک محدود رکھا گیا ہے، کسی نئے صوبے کے قریب الوقوع قیام کی اطلاع کے طور پر نہیں۔
نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی اور پارلیمانی مراحل، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی شمولیت اور وسیع سیاسی اتفاق اہم ہوتے ہیں۔ آئندہ اگر کوئی مسودہ، پارلیمانی کمیٹی، صوبائی قرارداد یا باضابطہ حکومتی تجویز سامنے آتی ہے تو وہ قابلِ تصدیق عملی پیش رفت ہوگی۔ اردو ہیڈلائنز اس موضوع پر مختلف سیاسی آرا کو واضح نسبت کے ساتھ شائع کرے گا اور تجویز، بحث اور منظور شدہ فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




