پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پی ایم ڈی سی، نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے ہاؤس آفیسرز کے لیے جامع فائر سیفٹی تعلیم اور عملی تربیت لازمی قرار دے دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس تربیت کو ہاؤس جاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا اور اس کے لیے مخصوص اوقات مختص ہوں گے۔ فیصلے کا اطلاق عملی طور پر اداروں کو جاری ہونے والی تفصیلی ہدایات اور نگرانی کے نظام کے مطابق ہوگا۔

پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کے مطابق پروگرام میں آگ لگنے سے بچاؤ، ہنگامی فائر ڈرل، مریضوں کی حفاظت اور محفوظ انخلا کے طریقۂ کار شامل ہوں گے۔ ہاؤس آفیسرز کو آگ کے ممکنہ خطرات پہچاننے، آگ بجھانے والے آلات درست طور پر استعمال کرنے، مقررہ راستوں سے مریضوں اور عملے کو نکالنے اور ہنگامی صورت حال میں مؤثر رابطہ قائم کرنے کی تربیت دی جائے گی۔

کونسل نے کہا ہے کہ باقاعدہ فائر ڈرل اور انخلا کی مشقیں میڈیکل کالجوں اور تدریسی ہسپتالوں میں کرائی جائیں گی تاکہ عملہ صرف تحریری ہدایات پر منحصر نہ رہے بلکہ ہنگامی صورت میں ذمہ داریاں عملی طور پر سمجھ سکے۔ ہسپتالوں میں زیر علاج افراد میں ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جو خود چلنے، سیڑھیاں استعمال کرنے یا فوری طور پر جگہ چھوڑنے کے قابل نہیں ہوتے، اس لیے انخلا کا منصوبہ عام دفتری عمارت سے مختلف اور زیادہ تفصیلی ہونا ضروری ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق فیصلہ موجودہ فائر سیفٹی پروٹوکولز کے جائزے اور ہنگامی تیاری میں بہتری کی ضرورت سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔ رپورٹ میں کسی ایک واقعے، ادارے یا شہر کو فیصلے کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ کونسل نے طبی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور فوری ردعمل کی صلاحیت مضبوط کریں تاکہ طلبہ، ہاؤس آفیسرز، مریضوں، ڈاکٹروں اور دوسرے عملے کو تحفظ مل سکے۔

لازمی تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ طبی ادارے اپنی عمارت، الارم، پانی، فائر ایکسٹنگوشر، ہنگامی دروازوں یا سیڑھیوں کی ذمہ داری صرف ہاؤس آفیسرز پر منتقل کرسکتے ہیں۔ انسانی تربیت مؤثر حفاظتی نظام کا ایک جزو ہے؛ عمارت کی قانونی تعمیل، آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال، کھلے انخلا راستے، مریضوں کے لیے معاون وسائل اور مقامی فائر و ریسکیو اداروں سے رابطہ بھی ادارہ انتظامیہ کی الگ ذمہ داریاں رہیں گی۔

ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ پی ایم ڈی سی اپنے ضابطہ کار دائرے میں آنے والے اداروں میں فائر سیفٹی آگاہی اور تیاری مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کو مستقبل میں میڈیکل طلبہ، پوسٹ گریجویٹ زیر تربیت ڈاکٹروں اور بالآخر تمام طبی کارکنوں تک بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ آئندہ توسیع کا ارادہ ہے؛ موجودہ لازمی فیصلہ واضح طور پر ہاؤس آفیسرز سے متعلق ہے۔

پروگرام کے معیار کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ مشقیں محض کاغذی کارروائی نہ رہیں، حاضری اور مہارت کی جانچ ہو، مختلف وارڈوں کے لیے انخلا منصوبے آزمائے جائیں اور ہر مشق کے بعد خامیوں کی اصلاح کی جائے۔ APP کی رپورٹ میں تربیت کی کم از کم مدت، امتحان یا سرٹیفکیشن، نفاذ کی آخری تاریخ اور عدم تعمیل پر کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ نکات پی ایم ڈی سی کی آئندہ ضابطہ جاتی ہدایات میں واضح ہونا باقی ہیں۔

میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں سے منسلک تدریسی ہسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز مریضوں کی ابتدائی اور مسلسل دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فائر سیفٹی کی عملی تربیت انہیں الارم کی صورت میں مریضوں کی ترجیح بندی، محفوظ راستے کے انتخاب اور سینئر و ریسکیو عملے سے رابطے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن کسی بھی ہنگامی صورت میں انہیں متعلقہ ادارے کے منظور شدہ کمانڈ اور انخلا منصوبے پر عمل کرنا ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ہاؤس آفیسرز کے لیے فائر سیفٹی تربیت کو ہاؤس جاب میں لازمی شامل کرنے کا پی ایم ڈی سی فیصلہ، تربیتی موضوعات کی ابتدائی فہرست اور کالجوں و تدریسی ہسپتالوں میں باقاعدہ مشقوں کی ہدایت ہے۔ پروگرام کے یکساں نفاذ اور نتائج کا جائزہ تفصیلی قواعد اور ادارہ وار نگرانی سامنے آنے کے بعد ممکن ہوگا۔