خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے میانوالی روڈ کے قریب سڑک کنارے نصب 20 کلوگرام وزنی دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈی، ناکارہ بنا دیا۔ پولیس حکام کے مطابق بارودی مواد وانڈہ شجاع کے قریب نصب کیا گیا تھا اور شبہ ہے کہ اس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔

ڈان کے مطابق پولیس کو مشتبہ دھماکا خیز مواد کی اطلاع ملنے کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا جس کے ماہرین نے کنٹرولڈ آپریشن کے ذریعے آئی ای ڈی کو ناکارہ بنایا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

پولیس نے کارروائی کے بعد ذمہ دار افراد کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ حکام نے فوری طور پر کسی فرد یا گروہ کی شناخت یا گرفتاری کا اعلان نہیں کیا، اس لیے واقعے کی ذمہ داری سے متعلق کسی دعوے کو اس مرحلے پر ثابت شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ بارودی مواد مشتبہ دہشت گردوں نے نصب کیا تھا، تاہم مزید تفصیلات تحقیقات سے سامنے آئیں گی۔

لکی مروت اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع گزشتہ برسوں میں پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات کے خلاف متعدد حملوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سڑک کنارے نصب بارودی مواد خاص طور پر گشت کرنے والی پولیس گاڑیوں اور قافلوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اسی لیے مشتبہ اشیا کی بروقت اطلاع اور بم ڈسپوزل یونٹس کی کارروائی جانی نقصان سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی ضلع میں انتظامیہ نے الگ کارروائی کے تحت درہ پیزو کے تاجروں کو شاہراہ اور بازاروں سے تجاوزات ہٹانے کے لیے 28 اکتوبر تک مہلت بھی دی ہے۔ یہ انتظامی معاملہ آئی ای ڈی کے واقعے سے الگ ہے، اگرچہ دونوں پیش رفتیں اسی ضلع میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تجاوزات پشاور کراچی شاہراہ پر ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

آئی ای ڈی ناکارہ بنائے جانے کے بعد اہم مرحلہ تفتیش اور ذمہ داروں کی شناخت ہے۔ پولیس کی جانب سے شواہد جمع کرنے اور سرچ آپریشن کے نتائج سامنے آنے تک یہ کہنا ممکن نہیں کہ دھماکا خیز مواد کس نیٹ ورک نے نصب کیا یا اس کا مخصوص ہدف کون تھا۔ فی الحال مصدقہ نتیجہ یہی ہے کہ 20 کلوگرام بارودی مواد بروقت ناکارہ بنا دیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔