اسلام آباد: پاکستان پولیو خاتمہ پروگرام نے آئندہ ذیلی قومی انسداد پولیو مہم سے قبل چار لاکھ سے زائد مہماتی فرنٹ لائن کارکنوں کے یومیہ وظیفے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اگلی مہم 21 سے 27 ستمبر تک چلائی جائے گی اور اس دوران ملک کے 115 اضلاع میں تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ بچوں تک ویکسین پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مہم میں بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے منتخب اضلاع شامل ہوں گے۔ پروگرام کے مطابق وظیفے میں اضافہ ملک بھر میں فرنٹ لائن کارکنوں کے ساتھ ہونے والے مشاورتی سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ویکسینیٹرز اور دیگر اہلکاروں نے فیلڈ میں درپیش مسائل، عملی ضروریات اور تجاویز براہ راست پروگرام قیادت کے سامنے رکھیں۔
پولیو پروگرام نے کہا ہے کہ مالی معاوضے میں اضافے کے ساتھ کارکنوں کی سلامتی، وقار اور فلاح سے متعلق اقدامات بھی بہتر بنائے جا رہے ہیں۔ منتخب علاقوں میں فرنٹ لائن ورکر سپورٹ مراکز کو بنیادی سہولتیں دینے، کارکنوں کے لیے شناختی کارڈ جاری کرنے اور فیلڈ آپریشنز کے دوران حفاظتی رہنما اصول تیار کرنے کا عمل بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق کے مطابق فرنٹ لائن کارکن پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کی کوششوں کا بنیادی حصہ ہیں اور مشکل حالات کے باوجود بچوں تک ویکسین پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومیہ وظیفے میں 28 فیصد اضافہ ان کارکنوں کی خدمات اور ذمہ داریوں کے اعتراف کی ایک عملی کوشش ہے، جبکہ پروگرام کا مقصد یہ بھی ہے کہ کارکن خود کو محفوظ، باعزت اور ادارہ جاتی طور پر معاونت یافتہ محسوس کریں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم میں گھر گھر ویکسینیشن کرنے والے کارکن مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً ایسے اضلاع میں جہاں رسائی، سکیورٹی یا ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ جیسے مسائل موجود ہیں۔ آئندہ مہم کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پروگرام انتظامیہ زیادہ بچوں تک رسائی کے ساتھ فیلڈ ٹیموں کے حالات کار بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اعلان میں کارکنوں کے نئے یومیہ وظیفے کی حتمی رقم الگ سے بیان نہیں کی گئی، تاہم اضافے کی شرح 28 فیصد بتائی گئی ہے۔




