اسلام آباد میں پاور ڈویژن نے بجلی کے ڈیٹیکشن بلوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میٹر کی خرابی، تکنیکی نقص یا درست ریڈنگ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جاسکے۔ سرکاری اعلان کے مطابق مجوزہ تبدیلیوں کا مرکزی نکتہ ڈیٹیکشن بلنگ اور اس سے متعلق وصولیوں کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانا ہے، تاہم یہ عمل ابھی پالیسی فیصلے اور متعلقہ قواعد میں ضروری ترامیم کے مرحلے میں ہے۔
ڈیٹیکشن بل عام طور پر اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب میٹر درست طور پر کام نہ کر رہا ہو، بجلی کے استعمال کا مکمل اندراج ممکن نہ ہو یا متعلقہ ضابطوں کے تحت کھپت کا تخمینہ لگانے کی ضرورت پیش آئے۔ پاور ڈویژن کے مطابق ماضی میں بعض معاملات میں تخمینی کھپت صارف کے حقیقی استعمال سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، جس کے نتیجے میں زائد بلنگ کی شکایات پیدا ہوئیں اور صارفین کو ازالے کے لیے طویل کارروائی سے گزرنا پڑا۔
وزارت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں انسانی مداخلت اور صوابدید کی گنجائش شفافیت سے متعلق سوالات اور بے ضابطگیوں کے خدشات پیدا کرتی رہی ہے۔ اسی پس منظر میں تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کو ہدایت دی گئی ہے کہ نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری ترامیم شامل کرانے اور دیگر متعلقہ انتظامی اقدامات کے لیے کارروائی کریں۔ چونکہ مینوئل میں ترمیم ضابطہ کار کے مطابق ہوگی، اس لیے صارفین کے لیے نئی عملی شرائط متعلقہ منظوریوں اور باقاعدہ نفاذ کے بعد واضح ہوں گی۔
سرکاری بیان کے مطابق خودکار نظام کا مقصد بل کی تیاری میں غیر ضروری انسانی اختیار محدود کرنا اور حساب کتاب کو قابلِ جانچ ڈیجیٹل طریقہ کار سے منسلک کرنا ہے۔ ڈیٹیکشن بلنگ اور اس سے پیدا ہونے والی وصولیوں کا ہر ماہ جائزہ لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ غیر معمولی رجحانات، ممکنہ اووربلنگ یا کسی تقسیم کار کمپنی میں اچانک اضافے کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ماہانہ نگرانی کے ذریعے اصلاحی کارروائی جلد شروع کی جاسکے گی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحاتی عمل کا حصہ قرار دیا۔ وزارت کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ، بلنگ کے عمل میں شفافیت اور شکایات کے حل کو بہتر بنانا ہے۔ سرکاری اعلان میں کسی مخصوص نفاذی تاریخ، نئے حسابی فارمولے یا صارف کی اپیل کے تبدیل شدہ طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے موجودہ قواعد اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک مجاز ادارے نئی ترامیم جاری نہیں کرتے۔
یہ فیصلہ بجلی صارفین کے لیے اہم ہے کیونکہ ڈیٹیکشن بل اکثر معمول کے ماہانہ بل سے مختلف بنیاد پر تیار ہوتا ہے اور اس پر تنازع پیدا ہونے کی صورت میں صارف کو متعلقہ ڈسکو کے شکایتی نظام سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈیجیٹل حساب کے اصول کتنے واضح بنائے جاتے ہیں، صارف کو بل کی بنیاد سمجھانے کے لیے کیا معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور ماہانہ نگرانی کے نتائج پر کتنی مؤثر کارروائی ہوتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پاور ڈویژن کا اصلاحاتی فیصلہ اور ڈسکوز کو قواعد میں تبدیلی کے لیے دی گئی ہدایات ہیں۔




