قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتراض کے بعد قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج ترمیمی بل اور گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس، GIDC، ترمیمی بل پر کارروائی مؤخر کردی ہے۔ اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی کے رکن سید مصطفیٰ محمود نے کی، جبکہ سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے ابتدا ہی میں دونوں سرکاری بل زیرِ بحث نہ لانے کی درخواست کی۔

کمیٹی کا فیصلہ دونوں بلوں کو مسترد کرنے یا ان کی قانونی حیثیت ختم کرنے کے مترادف نہیں۔ اس مرحلے پر صرف غور اور پارلیمانی کارروائی ملتوی ہوئی ہے، اس لیے حکومت انہیں بعد میں دوبارہ کمیٹی کے ایجنڈے پر لاسکتی ہے۔ آئندہ پیش رفت کمیٹی کے نئے اجلاس، حکومتی رابطوں اور ممکنہ ترامیم سے واضح ہوگی۔

پیٹرولیم ڈویژن نے GIDC ترمیمی بل کے ذریعے جمع شدہ رقم کے استعمال کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز دی تھی۔ موجودہ قانونی مقصد میں پاکستان ایران، ترکمانستان پاکستان اور ملک کے اندر گیس پائپ لائنوں جیسے مخصوص منصوبے شامل ہیں۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت اس رقم کو تیل اور گیس کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے یا بڑھانے کے لیے بھی استعمال کرنے کی گنجائش پیدا کرنا مقصود تھی۔

کمیٹی کو دی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 295 ارب روپے قومی خزانے میں غیر استعمال شدہ پڑے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کھاد ساز کمپنیوں نے صارفین سے 400 ارب روپے سے زیادہ رقم وصول کی، مگر قانونی تنازعات کے باعث یہ رقم قومی خزانے میں منتقل نہیں ہوسکی۔ یہ اعداد کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی بریفنگ اور رپورٹنگ پر مبنی ہیں؛ کسی عدالتی فیصلے نے اس اجلاس میں تمام کمپنیوں کی ذمہ داری یا وصولی کا حتمی تعین نہیں کیا۔

سید نوید قمر نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی باقاعدہ اتحادی نہیں، البتہ اسے حمایت دیتی رہی ہے، اور یہ تعلق یک طرفہ طور پر جاری نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابات، ججوں کی تقرری اور دیگر معاملات پر حکومت کو تحفظات سے آگاہ کیا تھا، مگر ان کے بقول قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ پیپلز پارٹی کا سیاسی مؤقف ہے؛ حکومت کا تفصیلی جواب اس رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

نوید قمر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت نے ایک روز پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ بل جلد منظور کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس بل پر اختلافی نوٹ جمع کرایا ہے۔ کسی پارلیمانی طریقۂ کار کی خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ متعلقہ ریکارڈ، قواعد اور اسپیکر یا مجاز فورم کے تعین سے ہوگا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ محمود نے کھاد کی صنعت کو نسبتاً سستی گیس دینے کے فائدے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر رعایت کا فائدہ کسان تک نہ پہنچے تو پالیسی کا جواز دوبارہ دیکھنا چاہیے۔ اس نکتے پر اجلاس میں کوئی حتمی قیمت، سبسڈی یا گیس فراہمی پالیسی منظور نہیں کی گئی۔

دونوں بلوں کا التوا حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری سیاسی اختلاف کا پارلیمانی اثر ضرور ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے گیس محصولات کے موجودہ قوانین فوراً تبدیل نہیں ہوئے۔ GIDC رقم کے متبادل استعمال، واجب الادا رقوم کی وصولی اور کھاد شعبے کی گیس قیمتوں میں کسی عملی تبدیلی کے لیے الگ قانونی، پارلیمانی اور ممکنہ عدالتی مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔