اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے مختلف سیاسی اور ادارہ جاتی تحفظات پر پیش رفت نہ ہونے تک حکومتی قانون سازی کی حمایت روکنے کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کو اپنی شکایات سے آگاہ کر دیا ہے اور اب عملی پیش رفت کی منتظر ہے۔
نوید قمر کے مطابق پیپلز پارٹی کے تحفظات میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات، ججوں کی تقرری اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان شکایات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن پارٹی کے مطابق ابھی تک قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت قانون سازی میں پیپلز پارٹی کی حمایت چاہتی ہے تو اسے پارٹی کے اٹھائے گئے معاملات پر بھی قدم اٹھانا ہوگا۔
پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا باقاعدہ حصہ نہ ہونے کے باوجود موجودہ حکومتی بندوبست میں متعدد اہم مواقع پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پارلیمانی حمایت فراہم کرتی رہی ہے۔ نوید قمر نے اسی پس منظر میں کہا کہ اس حمایت کو مستقل یا خودکار نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تازہ فیصلہ کسی ایک بل تک محدود نہیں بلکہ حکومتی قانون سازی کے وسیع تر ایجنڈے سے متعلق سیاسی دباؤ کی حکمت عملی ہے۔
انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ روز ایک بل کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ نوید قمر نے اسلام آباد کے مقامی حکومت سے متعلق مجوزہ قانون سازی کی حمایت نہ کرنے کی بات بھی کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس پر اختلافی نوٹ جمع کرایا ہے۔ یہ پارٹی رہنما کا سیاسی مؤقف ہے؛ متعلقہ حکومتی فریق کا تفصیلی جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حالیہ ہفتوں میں آزاد کشمیر کے انتخابی معاملات اور عدالتی تقرریوں سمیت مختلف امور پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ نوید قمر کے تازہ بیان نے ان اختلافات کو پارلیمانی حمایت کے ساتھ براہ راست جوڑ دیا ہے، جس سے ایسے بلوں کی منظوری متاثر ہو سکتی ہے جن کے لیے حکومت کو پیپلز پارٹی کے ووٹ درکار ہوں۔
فی الحال پیپلز پارٹی نے حکومت سے مکمل سیاسی علیحدگی یا حکومت گرانے کی کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔ اعلان کا دائرہ قانون سازی میں تعاون روکنے تک بیان کیا گیا ہے اور اسے شکایات پر پیش رفت سے مشروط رکھا گیا ہے۔ آئندہ پارلیمانی اجلاسوں اور حکومت و پیپلز پارٹی کے مذاکرات سے واضح ہوگا کہ یہ تعطل کتنی دیر برقرار رہتا ہے اور کن معاملات پر سمجھوتا ممکن ہوتا ہے۔




