اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 12 ربیع الاول کے موقع پر پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مبارکباد دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اپنے الگ الگ پیغامات میں سیرتِ نبوی ﷺ کو انفرادی کردار، معاشرتی انصاف، قومی یکجہتی اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے بنیادی رہنمائی قرار دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور اخلاقی بلندی کا سرچشمہ ہے۔ ان کے مطابق سیرتِ طیبہ انسان کو عدل، رحم، برداشت اور خدمتِ خلق کی راہ دکھاتی ہے اور آج کے معاشرتی مسائل کا پائیدار حل بھی انہی اصولوں پر سنجیدگی سے عمل کرنے میں ہے۔
صدر نے کہا کہ کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی، باہمی احترام اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی ایسے تقاضے ہیں جنہیں ریاست اور معاشرہ دونوں اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علم حاصل کریں، اپنے کردار کو مضبوط بنائیں، محنت اور دیانت کو معمول بنائیں اور اپنی صلاحیتیں ملک اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عید میلاد النبی ﷺ پر مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبے میں انسانیت کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے بتایا کہ رواں سال قومی سطح پر موضوع ’’نسلِ نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کو مرکزی اہمیت دینا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی شخصیت سازی کے لیے صداقت، امانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور ذمہ داری کے اوصاف ضروری ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بین المذاہب احترام اور اختلاف کے باوجود شائستگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق قومی ترقی صرف مادی وسائل سے نہیں بلکہ مضبوط کردار اور مشترکہ اخلاقی بنیاد سے بھی وابستہ ہے۔
دونوں پیغامات میں سیرتِ نبوی ﷺ کو محض تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ زندگی، حکمرانی، سماجی تعلقات اور عوامی خدمت میں اپنانے کا عہد دہرایا گیا۔ صدر اور وزیراعظم کے بیانات سرکاری تہنیتی پیغامات ہیں؛ رپورٹ میں ان کے بیان کردہ اصول اور ترجیحات ہی پیش کی گئی ہیں اور کسی اضافی پالیسی فیصلے یا عملی اقدام کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سرکاری اور سماجی سطح پر مختلف تقریبات، محافل اور سیرت کانفرنسوں کا انعقاد معمول ہے، تاہم اس خبر کا دائرہ صدر اور وزیراعظم کے جاری کردہ پیغامات تک محدود ہے۔ ان پیغامات میں بالخصوص نوجوانوں کی تعلیم و کردار، کمزور طبقات کے حقوق، انصاف، رحم، برداشت اور قومی اتحاد کو نمایاں کیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




