اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے وفاقی ٹیکس محتسب کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی تھی کہ ٹیکس دہندگان کی ذاتی اور ٹیکس سے متعلق معلومات کو سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کرتے وقت ان کی رازداری کی مکمل حفاظت کی جائے۔ صدر نے ایف بی آر کی جانب سے دائر وہ نمائندگیاں مسترد کر دیں جن میں وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ ڈاکٹر عثمان اقبال اوجلہ اور دیگر افراد کی چھ یکساں شکایات سے متعلق تھا۔ شکایت کنندگان نے الزام عائد کیا تھا کہ خاندان کے دوسرے ٹیکس دہندگان کے اسیسمنٹ آرڈرز میں ان کی خفیہ ٹیکس معلومات، ویلتھ اسٹیٹمنٹس، انکم ٹیکس ریٹرنز اور مالی لین دین کی تفصیلات غیر مجاز طور پر ظاہر کی گئیں۔ یہ الزامات شکایات کا حصہ تھے، تاہم محتسب نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر اصولی طور پر قرار دیا کہ کسی دوسرے ٹیکس دہندہ کی ذاتی معلومات کو ایسے افراد کے لیے ظاہر کرنا جنہیں قانوناً اس تک رسائی کا حق نہیں، انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 216 کے تحت ممنوع ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے تسلیم کیا کہ منسلک یا متعلقہ افراد کی معلومات بعض حالات میں ایک جامع اسیسمنٹ آرڈر تیار کرنے کے لیے متعلق ہو سکتی ہیں، لیکن ایسی معلومات کو محکمے کے خفیہ ریکارڈ میں سرکاری، اپیلی یا عدالتی مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جانا چاہیے، نہ کہ دوسرے ٹیکس دہندگان کے احکامات میں اس انداز سے شامل کیا جائے کہ غیر مجاز افراد اسے دیکھ سکیں۔ محتسب نے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، ریجنل ٹیکس آفس گوجرانوالہ کو متعلقہ اسیسمنٹ آرڈرز کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ایف بی آر نے اس فیصلے کے خلاف صدر کے سامنے نمائندگی دائر کرتے ہوئے محتسب کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا۔ 27 اگست 2026 کو سماعت کے دوران ایف بی آر کی نمائندگی کمشنر وقاص حنیف نے کی۔ متعلقہ اتھارٹی نے قرار دیا کہ ہر ٹیکس دہندہ، چاہے اس کا دوسرے ٹیکس دہندہ سے خاندانی یا کاروباری تعلق ہو، الگ قانونی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا ریٹرن اپنی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔ ریکارڈ میں محتسب کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی کوئی بنیاد نہ پاتے ہوئے نمائندگی مسترد کر دی گئی اور صدر نے اس نتیجے کی منظوری دے دی۔

صدر کا حکم 4 ستمبر 2026 کا ہے اور چھ نمائندگیوں، نمبر 541 سے 546/ITO/2026، سے متعلق ہے۔ فیصلے کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایف بی آر حکام ضرورت کے تحت متعلقہ معلومات کو اپنے خفیہ محکمانہ ریکارڈ میں استعمال اور محفوظ رکھ سکتے ہیں، لیکن ٹیکس دہندگان کے ذاتی و مالی ڈیٹا کو غیر مجاز افراد تک پہنچنے سے روکنے کے لیے احتیاطی اور قانونی ذمہ داری برقرار رہے گی۔