کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر 14 ستمبر 2026 کو فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 541.20 پوائنٹس، یعنی 1.49 فیصد کمی کے ساتھ 167 ہزار 970.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس نے 170 ہزار 437.72 پوائنٹس کی بلند ترین سطح چھوئی، جبکہ بعد میں فروخت بڑھنے سے یہ 167 ہزار 441.63 پوائنٹس کی یومیہ کم ترین سطح تک آ گیا۔ اختتامی گھنٹوں میں معمولی بحالی ہوئی مگر مجموعی خسارہ برقرار رہا۔
مارکیٹ مبصرین نے مندی کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے سے جوڑا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں اور خلیج میں جہازوں پر ایرانی حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی توانائی رسد اور بحری تجارت سے متعلق خدشات بڑھے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق طے شدہ اجلاس ملتوی ہونے کی خبر نے بھی سرمایہ کاروں کی بے یقینی میں اضافہ کیا۔ یہ نکات مارکیٹ شرکا اور بروکریج ہاؤسز کی تشریحات ہیں، نہ کہ حصص کی ہر انفرادی حرکت کی واحد ثابت شدہ وجہ۔
پاکستان خام تیل اور توانائی کی دیگر ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی کھاتے پر ممکنہ دباؤ سرمایہ کاروں کے لیے اہم عامل بنتا ہے۔ پیر کے کاروبار میں بینکنگ، کھاد، سیمنٹ، تیل و گیس اور دیگر بڑے شعبوں کے متعدد انڈیکس وزنی حصص میں فروخت دیکھی گئی۔ ٹاپ لائن کے مطابق یو بی ایل، فوجی فرٹیلائزر، لکی سیمنٹ، او جی ڈی سی اور ایم سی بی نے مجموعی طور پر انڈیکس پر نمایاں منفی اثر ڈالا۔
اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا فیصلہ بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا، تاہم دن بھر کے رجحان میں علاقائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات زیادہ نمایاں رہے۔ گزشتہ ہفتے بھی کے ایس ای 100 انڈیکس 4 ہزار 816.95 پوائنٹس یا 2.7 فیصد کم ہو کر 170 ہزار 511.86 پر بند ہوا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ فروخت ایک دن تک محدود نہیں رہی۔
پیر کی بندش کے بعد مارکیٹ کی فوری سمت کا انحصار علاقائی سلامتی، عالمی خام تیل کی قیمتوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں سے متعلق پیش رفت پر رہے گا۔ حصص بازار کی روزانہ حرکت متعدد ملکی اور عالمی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے موجودہ کمی کو کسی ایک خبر کا قطعی نتیجہ قرار دینا درست نہیں، تاہم دستیاب مارکیٹ تبصروں میں توانائی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مرکزی وجہ کے طور پر نمایاں کیا گیا۔

