کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے کاروباری سیشن کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 339.60 پوائنٹس، یعنی تقریباً 0.20 فیصد، کمی کے ساتھ 170,425.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مارکیٹ نے ابتدائی طور پر 270 سے زیادہ پوائنٹس کی بہتری دکھائی، لیکن بعد میں منافع کے حصول اور عالمی توانائی و جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث یہ برتری برقرار نہ رہ سکی۔

رپورٹ کے مطابق سیشن کے دوران انڈیکس 171,126.52 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک گیا جبکہ کم ترین سطح 170,120.50 رہی۔ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی خام تیل کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔ ان عوامل نے توانائی، درآمدی لاگت اور پاکستان کے بیرونی کھاتے سے متعلق توقعات پر براہ راست اثر ڈالا۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایشیائی تجارت کے دوران تین فیصد سے زیادہ اضافہ رپورٹ ہوا۔ یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایک تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا، جس میں تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط شامل تھیں۔ تیل کی قیمت میں تیزی پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے مہنگائی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کی ضروریات کے حوالے سے تشویش بڑھا سکتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی روزانہ کی حرکت کو صرف ایک عنصر سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی کارپوریٹ نتائج، شرح سود سے متعلق توقعات، سرمایہ کاروں کی پوزیشننگ اور ملکی معاشی خبریں بھی انڈیکس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم پیر کے سیشن میں رپورٹ شدہ تجزیوں نے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو اہم خارجی محرک قرار دیا، جبکہ ابتدائی تیزی کے بعد منافع کے حصول نے بھی دباؤ بڑھایا۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے جاری جائزہ مذاکرات اور مالیاتی اہداف کے مرحلے سے بھی گزر رہا ہے، اس لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی مقامی سرمایہ کاروں کے لیے اضافی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر توانائی کی عالمی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو درآمدی بل اور مہنگائی کے اندازوں پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ کشیدگی میں کمی اور شپنگ کی روانی بہتر ہونے کی صورت میں مارکیٹ کے خدشات میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔