کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,006.67 پوائنٹس، یعنی 1.21 فیصد، گر کر 163,924.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پاکستان کی معاشی صورت حال پر ممکنہ اثرات کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے رویے کو محتاط رکھا۔

سیشن کے دوران انڈیکس ابتدا میں محدود مثبت سطح تک گیا لیکن بعد میں فروخت کے دباؤ میں تیزی آئی۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 101 کی قیمت بڑھی، 355 میں کمی ہوئی اور 38 بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔ باقاعدہ مارکیٹ میں تقریباً 367.09 ملین حصص کا کاروبار ہوا، جن کی مالیت تقریباً 18 ارب روپے رہی۔

مارکیٹ تجزیاتی اداروں نے بینکوں اور بڑی انڈیکس کمپنیوں میں فروخت کو بھی کمی میں اہم قرار دیا۔ اینگرو ہولڈنگز، یو بی ایل، حب پاور، ایچ بی ایل اور پی ٹی سی ایل سمیت بعض بڑی کمپنیوں کے حصص نے انڈیکس پر منفی اثر ڈالا، جبکہ چند کمپنیوں نے محدود مثبت حصہ ڈالا۔ یہ اعداد ایک روزہ مارکیٹ کارکردگی کی تصویر پیش کرتے ہیں اور انہیں کسی کمپنی کی مستقبل کی کارکردگی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے اہم ہیں، کیونکہ مہنگا تیل درآمدی بل، مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور کاروباری لاگت سے متعلق توقعات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی منڈی میں اچانک تیزی اسٹاک مارکیٹ کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کے خطرے کے اندازے بدل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی خالص فروخت ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ایک سیشن کی کمی کو طویل مدتی رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا؛ آنے والے کاروباری دنوں میں عالمی تیل، علاقائی کشیدگی، مقامی شرح سود اور کمپنیوں کے مالی نتائج مارکیٹ سمت کے اہم عوامل رہیں گے۔