کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز اتار چڑھاؤ کے بعد فروخت کا دباؤ غالب آ گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 698.56 پوائنٹس، یعنی 0.40 فیصد کمی کے ساتھ 171,943.60 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری دن کے آخری حصے میں فروخت تیز ہونے سے ابتدائی مزاحمت برقرار نہ رہ سکی۔
انڈیکس نے دن کے دوران 173,174.19 پوائنٹس کی بلند ترین اور 171,801.67 پوائنٹس کی کم ترین سطح دیکھی۔ دوپہر تک کاروبار بڑی حد تک ایک محدود دائرے میں رہا، تاہم آخری گھنٹوں میں بینکنگ، سیمنٹ اور کھاد کے شعبوں میں فروخت نے مجموعی مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔
مارکیٹ کے محتاط رجحان کے پس منظر میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، مشرق وسطیٰ میں فوجی اور توانائی کے اہداف پر حملوں کی خبریں اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی شامل رہی۔ برینٹ خام تیل کے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے اور آبنائے ہرمز سے نقل و حرکت میں خلل کے خدشات نے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے بیرونی کھاتے اور مہنگائی کے امکانات کے بارے میں سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھائی۔
کے ٹریڈ سکیورٹیز کے احمد شیراز کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 171,943 پر بند ہوا اور انڈیکس کے حصص میں تقریباً 159 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔ فوجی فرٹیلائزر، ایم سی بی بینک، لکی سیمنٹ اور میزان بینک سمیت بعض بڑے حصص دباؤ میں رہے، جبکہ کچھ منتخب کمپنیوں میں خریداری نے مارکیٹ کو جزوی سہارا دیا۔
مجموعی مارکیٹ میں کاروباری حجم منگل کے 722.6 ملین حصص سے کم ہو کر 477.6 ملین حصص رہ گیا، جبکہ کاروبار کی مالیت 22.6 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ ریڈی مارکیٹ میں 492 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا؛ 162 کی قیمتوں میں اضافہ، 293 میں کمی اور 37 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سینرجیکو پاکستان 65.9 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے نمایاں رہا۔
مارکیٹ کی آئندہ سمت جغرافیائی سیاسی حالات، عالمی تیل کی قیمتوں اور پاکستان کے معاشی اشاریوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔ کسی ایک روز کی کمی کو طویل مدتی رجحان کی حتمی علامت نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم موجودہ سیشن نے واضح کیا کہ توانائی کی قیمتوں اور علاقائی کشیدگی سے متعلق خبریں مقامی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر فوری اثر ڈال رہی ہیں۔




