کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، تاہم بعد میں فروخت کے دباؤ نے ابتدائی تیزی ختم کر دی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 169,600.40 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق دن کے دوران انڈیکس نے نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا اور سرمایہ کاروں نے ملکی معاشی مذاکرات اور خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان محتاط رویہ اختیار کیا۔
ٹریبیون کے مطابق انڈیکس صبح 9 بج کر 38 منٹ پر 324.35 پوائنٹس یا 0.19 فیصد اضافے کے ساتھ 170,749.97 تک پہنچ گیا تھا، مگر بعد میں سمت تبدیل ہوئی۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 170,944.35 اور کم ترین سطح 169,538.23 رہی، جس کے بعد اختتام 169,600.40 پر ہوا۔ بزنس ریکارڈر نے بھی دن کے آخری حصے میں فروخت کے دباؤ اور 800 سے زیادہ پوائنٹس کی مجموعی کمی رپورٹ کی۔
ابتدائی کاروبار میں آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت متعدد شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، لیکن بعد میں وسیع پیمانے پر فروخت نے ان فوائد کو ختم کر دیا۔ مارکیٹ کی روزانہ حرکت میں انفرادی کمپنیوں کے نتائج، مقامی لیکویڈیٹی اور ادارہ جاتی خرید و فروخت بھی کردار ادا کر سکتے ہیں، اس لیے کسی ایک عامل کو مکمل وجہ قرار دینا مناسب نہیں۔
مارکیٹ رپورٹس نے سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری مذاکرات پر بھی مرکوز بتائی۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان کے پروگرام کے جائزے کے سلسلے میں حکام سے بات چیت کر رہا ہے، اور سرمایہ کار ممکنہ پالیسی اقدامات، مالیاتی اہداف اور اگلی قسط سے متعلق پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال عالمی تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کے بارے میں خدشات پیدا کرتی ہے، جو پاکستان جیسی توانائی درآمد کرنے والی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
ایک دن کی انڈیکس حرکت طویل مدتی مارکیٹ رجحان کا حتمی پیمانہ نہیں ہوتی۔ کے ایس ای 100 میں روزانہ تبدیلیاں عالمی منڈیوں، شرح سود کی توقعات، روپے کی قدر، توانائی کی قیمتوں، کمپنیوں کے مالی نتائج اور ملکی پالیسی خبروں سمیت کئی عوامل کے امتزاج سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ منگل کے سیشن نے اسی حساسیت کو ظاہر کیا، جب مثبت آغاز کے باوجود اختتامی مرحلے میں فروخت غالب آ گئی۔

