کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروباری ہفتے کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب رہا اور دوپہر تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 632.40 پوائنٹس یا 0.38 فیصد کمی کے ساتھ 165,776.85 پوائنٹس پر آ گیا۔ یہ اعداد و شمار انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے ہیں، اس لیے انہیں دن کی حتمی اختتامی سطح نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مارکیٹ نے صبح نسبتاً کمزور آغاز کیا۔ 9 بج کر 34 منٹ پر انڈیکس 239.84 پوائنٹس کمی کے ساتھ 166,169.41 پر تھا، جبکہ دوپہر 12 بج کر 29 منٹ تک خسارہ بڑھ کر 632.40 پوائنٹس ہوگیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس 166,409.25 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

پیر کے سیشن میں انڈیکس کی بلند ترین انٹرا ڈے سطح 166,581.95 اور کم ترین سطح 165,601.22 پوائنٹس ریکارڈ ہوئی۔ رپورٹ کے وقت تقریباً 10 کروڑ 10 لاکھ حصص کا کاروبار ہو چکا تھا جبکہ ٹریڈ شدہ مالیت 6.31 ارب روپے بتائی گئی۔ یہ اعداد مارکیٹ کی جاری سرگرمی کی عکاسی کرتے ہیں اور حتمی روزانہ حجم اختتام پر مختلف ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی رابطوں سے کچھ مثبت اشارے ملے، مگر مقامی ایکویٹی مارکیٹ میں اس کا فوری طور پر مضبوط خریداری میں ترجمہ نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں نے جغرافیائی سیاسی صورتحال، توانائی کی درآمدی لاگت، ملکی شرح سود اور دیگر معاشی اشاریوں کے بارے میں احتیاط برقرار رکھی۔

گزشتہ جمعہ کو بھی کے ایس ای 100 انڈیکس 784.19 پوائنٹس یا 0.47 فیصد کمی کے ساتھ 166,409.25 پر بند ہوا تھا، جس سے چار سیشنز پر مشتمل بحالی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر انڈیکس تقریباً 3,560 پوائنٹس یا 2.1 فیصد نیچے رہا، جبکہ مہینے کے آخری ہفتے میں 4,800 سے زیادہ پوائنٹس کی بحالی بھی دیکھی گئی تھی۔

مانیٹری پالیسی بھی سرمایہ کاروں کی توجہ میں ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 26 اکتوبر کو پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کیا تھا اور توانائی قیمتوں و جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کو مہنگائی کے منظرنامے کے لیے اہم عوامل میں شمار کیا تھا۔ بلند شرح سود کمپنیوں کی فنانسنگ لاگت اور ایکویٹی ویلیوایشن دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

پیر کی دوپہر کی کمی مارکیٹ کے اندر جاری احتیاط اور فروخت کے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے، لیکن چونکہ رپورٹ کاروباری دن مکمل ہونے سے پہلے کی ہے، حتمی نتیجہ اختتامی انڈیکس اور مجموعی کاروباری حجم سامنے آنے کے بعد ہی طے ہوگا۔