کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دو ہزار سے زائد پوائنٹس تک گر گیا۔ ایک روز قبل انڈیکس 779 پوائنٹس کی جزوی بحالی کے بعد 165,930.98 پر بند ہوا تھا، مگر نئے سیشن میں ابتدائی سطح سے تیزی سے نیچے آیا۔
کاروبار کے دوران انڈیکس 166,180.32 کے قریب بلند ترین سطح تک گیا، تاہم بعد میں فروخت بڑھنے سے دوپہر تک 164,186.90 کی کم سطح بھی دیکھی گئی۔ اس مرحلے پر مارکیٹ میں تقریباً 60.55 ملین حصص کا کاروبار ہوچکا تھا اور ان کی مالیت 5.11 ارب روپے کے قریب بتائی گئی۔ بعد کی ٹریڈنگ میں دباؤ مزید بڑھا اور انڈیکس کی کمی دو ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگئی۔
فروخت کا رجحان متعدد بڑے شعبوں میں نمایاں رہا، جن میں تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ، بجلی پیدا کرنے والے ادارے، سیمنٹ، گاڑیوں کی اسمبلنگ اور ریفائنریز شامل تھیں۔ بڑے وزن رکھنے والے حصص میں کمزوری نے مجموعی انڈیکس پر دباؤ بڑھایا۔
ایک روز پہلے مارکیٹ میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی منتخب خریداری اور امریکا ایران کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امیدوں سے بہتری آئی تھی۔ تاہم عالمی تیل کی بلند قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور مقامی پالیسی سے متعلق خدشات سرمایہ کاروں کے لیے بدستور اہم عوامل ہیں۔ اس لیے گزشتہ روز کی تیزی پائیدار نہ رہ سکی اور اگلے سیشن میں منافع کے حصول اور خطرے سے بچنے کی فروخت نمایاں ہوگئی۔
اسٹاک مارکیٹ میں دوران کاروبار پوائنٹس اور حجم مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے انٹرا ڈے سطح کو حتمی اختتامی اعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ حتمی کلوزنگ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ پورے سیشن میں انڈیکس نے کتنی کمی ریکارڈ کی اور مجموعی کاروباری حجم کیا رہا۔
حالیہ اتار چڑھاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار بیک وقت عالمی جغرافیائی سیاسی خطرات، خام تیل کی قیمتوں، ملکی مہنگائی، شرح سود کے آئندہ فیصلے اور نئی صنعتی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
