اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کی حمایت کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے پارٹی کے اندر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے کسی متبادل امیدوار پر غور کی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی عملی طور پر غیر فعال ہیں اور پارٹی کے اندر حکمت عملی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سہیل آفریدی کو پارٹی بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا اعتماد اور حمایت حاصل ہے۔ نوٹیفکیشن میں پارٹی ارکان، عہدیداروں، پارلیمنٹیرینز اور دیگر ذمہ داران کو ہدایت کی گئی کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی نئے نام، تبدیلی یا متبادل امیدوار سے متعلق اجلاس نہ بلائیں، ایجنڈا پیش نہ کریں اور ایسی بحث میں حصہ نہ لیں۔

پارٹی کے مطابق کسی متبادل امیدوار کی نامزدگی یا اس فیصلے میں تبدیلی کا اختیار عمران خان کے پاس ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارٹی ارکان نے قیادت کے فیصلوں کی پابندی کی ہے، تاہم وزیراعلیٰ سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز پر جاری قیاس آرائیوں کے باعث وضاحتی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

یہ پیش رفت پارٹی کے اندر حالیہ اختلافی آوازوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض پی ٹی آئی ارکان نے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے طریقہ کار، اعلیٰ قیادت کے فیصلوں اور سہیل آفریدی پر انحصار سے متعلق تحفظات ظاہر کیے تھے۔ ایک مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بھی طویل بحث ہوئی جس میں بعض ارکان نے سوال اٹھایا کہ صوبائی معاملات میں سہیل آفریدی کو اتنا اختیار کیوں دیا گیا۔

سہیل آفریدی 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے۔ اگلے روز ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ وہ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان احتیاطی تحویل میں ہیں۔ موجودہ پی ٹی آئی اعلامیہ بنیادی طور پر پارٹی کے اندر سیاسی پوزیشن کی وضاحت ہے؛ اس سے گورنر راج کی قانونی یا انتظامی حیثیت میں خود بخود کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ صوبائی حکومت کی عملی فعالیت اور متعلقہ آئینی معاملات الگ قانونی و انتظامی عمل کے تابع ہیں۔