اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت میں 20 دسمبر کو مقرر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے اور تمام 125 یونین کونسل نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کی علاقائی قیادت نے ضلعی اور ٹاؤن تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ ہر وارڈ میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مقررہ مدت، 2 سے 6 نومبر، کے دوران جمع کرائے جائیں۔
پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر عامر مغل نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی نے شہر بھر میں مشاورت کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق پارٹی تمام 125 یونین کونسلوں میں انتخابی مقابلہ کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ چند روز کے دوران علاقائی، ضلعی اور ٹاؤن سطح کے عہدیداروں سے آن لائن اور بالمشافہ مشاورت کی۔
پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق تقریباً 400 عہدیداروں سے رائے لی گئی، جن میں آٹھ ٹاؤن تنظیمیں، یونین کونسل تنظیمیں، لیبر، طلبہ، نوجوان، تاجر اور خواتین ونگز کے نمائندے شامل تھے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ مشاورت میں بڑی اکثریت نے انتخابات میں حصہ لینے کی حمایت کی۔ یہ فیصد اور مشاورتی نتائج پی ٹی آئی کے اپنے بیان پر مبنی ہیں اور آزادانہ انتخابی سروے نہیں ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے لیے 20 دسمبر کی پولنگ تاریخ مقرر کی ہے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی، جانچ پڑتال، اپیلوں اور حتمی امیدواروں کی فہرست سمیت مختلف مراحل پولنگ سے پہلے مکمل کیے جائیں گے۔ نتائج کی یکجائی کے لیے بھی الگ مدت رکھی گئی ہے۔
پی ٹی آئی نے موجودہ بلدیاتی قانونی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب نمائندوں کو بنیادی شہری خدمات پر مناسب اختیارات نہیں ملتے۔ پارٹی نے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے ممکنہ بالواسطہ انتخاب سے متعلق تجاویز پر بھی اعتراض کیا اور انہیں سیاسی دباؤ کے امکانات سے جوڑا۔ یہ الزامات پارٹی کا سیاسی مؤقف ہیں؛ الیکشن کمیشن یا حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اسلام آباد میں گزشتہ بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد حلقہ بندیوں، قانونی تبدیلیوں اور انتخابی شیڈول میں متعدد بار تاخیر ہوئی۔ تازہ شیڈول کے تحت اگر انتخابی عمل مقررہ وقت پر آگے بڑھتا ہے تو وفاقی دارالحکومت کے شہری کئی سال بعد نئی مقامی حکومت کے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔
پی ٹی آئی کی شرکت کا فیصلہ انتخابی مقابلے کو سیاسی طور پر اہم بناتا ہے، تاہم امیدواروں کی حتمی فہرست، انتخابی نشانات اور کسی ممکنہ قانونی تبدیلی کا اثر نامزدگی اور جانچ پڑتال کے مراحل کے بعد واضح ہوگا۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وہ انتخاب مقررہ تاریخ پر کرانے کے لیے دباؤ برقرار رکھے گی۔

