اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تجویز کردہ سی ٹی کورونری انجیوگرافی اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد ماہرین اور ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں فوری طور پر کرائی جائے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اطلاعات سیکریٹری شیخ وقاص اکرم نے تحریری بیان میں کہا کہ پمز کے دورے کے دوران یہ ٹیسٹ نہ ہونا تشویش کا باعث ہے اور اس کی وجہ واضح کی جانی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو جمعے کی صبح آنکھ کے علاج اور دوسرے تشخیصی معائنوں کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے سی ٹی انجیوگرافی تجویز کی، مگر رپورٹ شدہ طور پر یہ ٹیسٹ نہیں ہوا اور انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔ ڈان نے طبی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ پمز کے شعبۂ ریڈیالوجی میں 128 سلائس سی ٹی اسکینر موجود ہے، تاہم سی ٹی انجیوگرافی کے لیے متعلقہ شعبوں کے درمیان رابطہ اور باقاعدہ ریفرل درکار ہوتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کی ہے تاکہ حقائق اور ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔ پی ٹی آئی کے بیان میں کہا گیا کہ صرف کمیٹی بنانا کافی نہیں؛ یہ بھی بتایا جائے کہ عدالتی ہدایت کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز کیوں لے جایا گیا اور تجویز کردہ ٹیسٹ کیوں نہ ہو سکا۔ پارٹی کے تمام الزامات اور سوالات اسی کے مؤقف کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں، کسی غفلت یا ارادی رکاوٹ کا حتمی تعین ابھی نہیں ہوا۔

پی ٹی آئی نے عمران خان کا مکمل طبی ریکارڈ، رپورٹس اور تشخیصی نتائج ان کے خاندان، ذاتی ڈاکٹروں اور قانونی ٹیم کو فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پارٹی نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر من و عن عمل اور ایک شفاف آزادانہ تحقیقات کی درخواست کی۔ اس عدالتی حکم میں کثیر شعبہ جاتی بورڈ، ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی موجودگی سے معائنہ شامل تھا، جبکہ صحت کی تفصیلات عوامی کرنے پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

حکومت اور پمز کا مؤقف ہے کہ ماہرین نے عمران خان کا معائنہ کیا، شفا انٹرنیشنل کے دو ماہرین آنکھ کے جائزے میں شریک ہوئے اور انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا گیا۔ حکومت نے شفا اسپتال منتقلی نہ ہونے کو سکیورٹی حالات سے جوڑا، جسے پی ٹی آئی مسترد کرتی ہے۔ موجودہ خبر متضاد فریقوں کے انہی معلوم مؤقف، ٹیسٹ نہ ہونے کی رپورٹ اور پارٹی کے نئے مطالبے تک محدود ہے؛ انکوائری کمیٹی یا عدالت کی بعد کی مصدقہ پیش رفت پر اپ ڈیٹ ضروری ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک