لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے کے سکیورٹی اور پولیسنگ نظام میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے بقول جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ لاہور میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا، جہاں صوبائی حکومت نے ڈیٹا اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ماضی میں جرائم اور دہشت گردی کے مسائل سنگین تھے لیکن صوبائی حکومت نے ریاستی عملداری بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی سرحدوں اور نام نہاد ٹرائی بارڈر علاقوں سے آنے والے خطرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صوبے کو داخلی سکیورٹی کے لیے ہمسایہ صوبائی علاقوں سے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان ریمارکس پر سیاسی اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور وزیراعلیٰ سے وضاحت اور معذرت کا مطالبہ کیا۔
جرائم میں 70 فیصد کمی کا عدد وزیراعلیٰ کا سرکاری دعویٰ ہے؛ دستیاب رپورٹنگ میں اس دعوے کی مکمل آزادانہ شماریاتی جانچ پیش نہیں کی گئی۔ جرائم کے رجحان کی درست پیمائش کے لیے پولیس میں درج مقدمات، رپورٹنگ کی شرح، مختلف جرائم کی الگ درجہ بندی اور یکساں مدت کے تقابلی اعداد ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومتی دعوے کو حتمی آزادانہ نتیجہ سمجھنے کے بجائے صوبائی حکومت کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی سکیورٹی نظام عام طور پر ویڈیو اینالیٹکس، ڈیٹا انضمام، مشتبہ پیٹرن کی شناخت اور تیز معلوماتی تجزیے جیسے کاموں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسے نظاموں کے ساتھ شہریوں کی نجی زندگی، ڈیٹا تحفظ، غلط شناخت اور نگرانی کے قانونی دائرہ کار سے متعلق سوالات بھی اہم ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے مخصوص ماڈلز، الگورتھمک نگرانی اور آزاد آڈٹ کے مکمل تکنیکی معیار فوری طور پر عام نہیں کیے گئے۔
تازہ اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت پولیسنگ اور داخلی سکیورٹی میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو پالیسی ترجیح دے رہی ہے۔ اس حکمت عملی کی کامیابی کا قابل اعتماد اندازہ وقت کے ساتھ شائع ہونے والے قابل تقابل جرائم کے اعداد، نظام کی درستگی، شہری شکایات اور قانونی نگرانی کے معیار سے لگایا جا سکے گا۔




