لاہور: پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملہ تقریباً چودہ برس بعد دوبارہ باضابطہ بحث کے لیے سامنے آیا ہے۔ دی نیشن کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ذوالفقار علی شاہ نے ایوان میں اس موضوع پر رسمی بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الحال نہ کوئی نیا صوبہ قائم ہوا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی آئینی فیصلہ منظور کیا گیا؛ پیش رفت صرف پارلیمانی بحث کی تجویز اور طریقۂ کار طے کرنے تک محدود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایوان کی کارروائی تیسری نشست میں بھی کورم پورا نہ ہونے کے باعث متاثر ہوئی۔ نئے صوبوں کے موضوع پر ممکنہ بحث کی حکمت عملی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے جمعرات کے اجلاس میں زیر غور آنے کی توقع ہے۔ اس کمیٹی کا کام ایوان کے کاروبار اور بحث کے انتظام پر اتفاق پیدا کرنا ہے، جبکہ کسی صوبے کی تشکیل کے لیے آئین میں درج الگ اور زیادہ وسیع قانونی عمل درکار ہوتا ہے۔
پنجاب اسمبلی نے 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور سے متعلق قراردادیں منظور کی تھیں، جن کا حوالہ موجودہ بحث کے پس منظر میں دیا جا رہا ہے۔ تاہم سابق قرارداد اور موجودہ مطالبہ بذات خود صوبائی حدود میں تبدیلی نہیں کرتے۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمان میں آئینی ترمیم، مطلوبہ اکثریت اور متاثرہ صوبائی اسمبلی کی منظوری جیسے مراحل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ زیر نظر رپورٹ میں کسی نئے آئینی مسودے، حد بندی، دارالحکومت یا وسائل کی تقسیم کی حتمی تجویز شامل نہیں۔
یہ موضوع آبادی، انتظامی رسائی، مالی وسائل، سیاسی نمائندگی اور علاقائی شناخت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اسمبلی میں ہونے والی کسی بھی بحث میں مختلف جماعتوں اور خطوں کے مؤقف اہم ہوں گے۔ ذوالفقار علی شاہ کی تجویز کو حکومتی پالیسی کا حتمی اعلان یا تمام جماعتوں کا اتفاق سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح کورم پورا نہ ہونا بحث کے التوا کا عملی سبب بنا، مگر اس سے تجویز خود ختم نہیں ہوئی۔
اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی سفارش اور پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے میں موضوع کی ممکنہ شمولیت ہوگا۔ جب تک ایوان میں بحث، قرارداد یا آئینی کارروائی سامنے نہ آئے، اسے ابتدائی پارلیمانی اقدام ہی تصور کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




