اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے نو افسران کی پاکستان کی سول سروس کے مختلف گروپوں میں شمولیت کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں وفاقی پبلک سروس کمیشن نے تحریری نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کامیاب افسران کی متعلقہ سروس اور گروپ کا تعین کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی سول انتظامیہ میں شمولیت کا عمل آگے بڑھے گا۔
دستیاب تفصیل کے مطابق پانچ افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، دو کو پولیس سروس آف پاکستان اور دو کو فارن سروس آف پاکستان میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افسران نے مقابلے کے امتحان 2025 سے متعلق نفسیاتی جانچ اور زبانی امتحان کے مراحل مکمل کیے۔ ایف پی ایس سی کے نوٹس کو اس انتخابی عمل کا باضابطہ نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کی سول سروس میں مختلف پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افسران کی شمولیت مقررہ قواعد اور دستیاب کوٹے کے تحت ہوتی ہے۔ موجودہ اعلان صرف نو مخصوص افسران اور تین سروس گروپوں سے متعلق ہے۔ اس خبر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سول سروس کے عمومی امتحان، تمام آسامیوں یا دوسرے امیدواروں کے نتائج میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ اسی طرح دستیاب رپورٹ میں انفرادی تعیناتی کے شہر، عہدے یا تربیتی شیڈول کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کے مختلف شعبوں میں ذمہ داریاں انجام دیتی ہے، پولیس سروس امن و امان اور قانون نافذ کرنے کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے، جبکہ فارن سروس بیرون ملک سفارتی نمائندگی اور خارجہ امور سے متعلق کام کرتی ہے۔ متعلقہ افسران کو عملی ذمہ داریاں ملنے سے پہلے سروس قواعد کے تحت تربیت اور تعیناتی کے مزید مراحل درکار ہو سکتے ہیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ایف پی ایس سی کا جاری کردہ نوٹس اور نو افسران کی تین گروپوں میں تقسیم ہے۔ سینیارٹی، پہلی پوسٹنگ یا اضافی تقرریوں کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے آئے تو وہ الگ سرکاری فیصلے کے طور پر رپورٹ کی جائے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




