لاہور: پنجاب حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ ڈیوائسز سے لیس ایسی اشیا پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں نگرانی یا خفیہ ریکارڈنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فیصلے کا مقصد شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں، کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ نے قلم، چشموں اور گھڑیوں جیسی اشیا کا ذکر کیا جن میں پوشیدہ کیمرے یا ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہو سکتی ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے آلات کے غیر قانونی استعمال، خرید و فروخت کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ داخلہ نے اس اقدام کے پس منظر میں غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے متعلق شکایات کا حوالہ دیا ہے۔

پنجاب کے ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی نے ڈان کو بتایا کہ پابندی کے عملی نفاذ کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن آئندہ چند روز میں جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق فیصلے کا اعلان نوٹیفکیشن سے پہلے اس لیے کیا گیا تاکہ لوگوں کو ایسی اشیا ترک کرنے کے لیے کچھ وقت مل سکے۔ اس وضاحت سے واضح ہے کہ 19 اکتوبر کو سامنے آنے والا اقدام حکومتی فیصلہ ہے جبکہ اس کے قانونی اور انتظامی نفاذ کی تفصیلات نوٹیفکیشن میں متعین ہونا باقی ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لاہور ہائی کورٹ میں کیمرے اور مائیکروفون سے لیس اسمارٹ گلاسز کی غیر منظم درآمد اور فروخت کے خلاف مفاد عامہ کی ایک درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ درخواست میں شہریوں کی پرائیویسی، وقار اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت میں وفاقی حکومت کو اسمارٹ گلاسز کی غیر منظم درآمد اور فروخت کے معاملے پر وفاقی کابینہ کے لیے سمری بھجوانے کی ہدایت کی تھی۔

خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والی چھوٹی اور عام دکھائی دینے والی ڈیوائسز نے دنیا بھر میں پرائیویسی کے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت کی پابندی کا حتمی دائرہ، کن مخصوص مصنوعات پر اطلاق ہوگا، کاروبار یا جائز پیشہ ورانہ استعمال کے لیے کوئی استثنا ہوگا یا نہیں، اور خلاف ورزی پر کن قانونی دفعات کے تحت سزا دی جائے گی، ان امور کی مکمل تفصیل ابھی جاری ہونے والے نوٹیفکیشن سے سامنے آئے گی۔

اس لیے موجودہ مرحلے پر یہ کہنا درست ہوگا کہ صوبائی حکومت نے پابندی کا اصولی فیصلہ اور قانونی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، لیکن نفاذ کی مکمل شرائط ابھی حتمی سرکاری نوٹیفکیشن کی منتظر ہیں۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے بھی آئندہ نوٹیفکیشن اہم ہوگا کیونکہ اسی سے ممنوعہ آلات کی تعریف اور عمل درآمد کا طریقہ واضح ہونے کی توقع ہے۔