پنجاب میں پرانی، تباہ شدہ اور قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی گاڑیوں کو باقاعدہ طریقے سے اسکریپ کرنے کے لیے نیا قانونی فریم ورک نافذ کردیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب نے صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے، جس میں ’اینڈ آف لائف وہیکل‘ اور اسکریپنگ کی تعریفیں شامل کی گئی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 128 کے تحت جاری کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جس گاڑی کی رجسٹریشن ختم یا منسوخ ہوچکی ہو، اسے ناکارہ گاڑی کے زمرے میں رکھا جاسکے گا۔ فٹنس یا اخراجِ دھواں کا مطلوبہ سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے والی گاڑیوں کو بھی اینڈ آف لائف قرار دینے کی گنجائش دی گئی ہے۔ حادثے، آگ یا قدرتی آفت میں اس حد تک تباہ ہونے والی گاڑی جسے معمول کے مطابق استعمال نہ کیا جاسکے، اس نئے نظام کے تحت اسکریپنگ کے لیے بھیجی جاسکے گی۔ گاڑی کا مالک اپنی مرضی سے بھی منظور شدہ مرکز میں ناکارہ گاڑی جمع کرا سکے گا۔

نئے بندوبست کے تحت سرکاری اور نجی اسکریپنگ سہولتیں قائم کی جاسکیں گی۔ وہاں گاڑی سے آلودگی پیدا کرنے والے اجزا الگ کیے جائیں گے، قابل استعمال پرزے نکالے جائیں گے اور باقی دھات یا ناقابل استعمال حصوں کو کچل کر ری سائیکل کیا جاسکے گا۔ اس عمل کا مقصد سڑکوں پر غیر محفوظ گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کے ساتھ گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی لانا بتایا گیا ہے۔

آرڈیننس نے پنجاب حکومت کو اسکریپنگ کے عملی طریقہ کار، منظور شدہ مراکز اور نگرانی سے متعلق تفصیلی قواعد بنانے کا اختیار دیا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص گاڑی کے بارے میں حتمی کارروائی متعلقہ قواعد، ریکارڈ اور مجاز ادارے کی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔ محض گاڑی پرانی ہونے کو خودکار ضبطی یا فوری اسکریپنگ کا حکم سمجھنا درست نہیں؛ رپورٹ میں درج قانونی شرائط اور آئندہ بننے والے قواعد فیصلہ کن ہوں گے۔

حکومت نے اس قانون سازی کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کے وسیع مقصد سے بھی جوڑا ہے۔ مؤثر عمل درآمد کے لیے گاڑی مالکان کو واضح اطلاع، محفوظ پرزوں کی دستاویز بندی، ری سائیکلنگ مراکز کی نگرانی اور رجسٹریشن ریکارڈ کی درستگی اہم ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک