لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت 9 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں یہ ہدف طے کیا گیا کہ جنوری 2027 تک تمام اضلاع میں اس نوعیت کے ادارے قائم کیے جائیں۔ 10 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے مجوزہ اداروں کے لیے 2820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی بھی منظوری دی ہے۔
اجلاس میں موجودہ اداروں کی کارکردگی اور نئے اضلاع تک ان کے دائرہ کار میں توسیع سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز اس وقت دس اضلاع میں فعال ہیں جبکہ مزید گیارہ اضلاع میں نئے ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے منصوبے کے اگلے مرحلے میں یہ نظام تحصیل کی سطح تک لے جانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
نئی بھرتیوں میں منیجنگ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور دیگر فنی عملے کی اسامیاں شامل ہوں گی۔ حکومت کے مطابق ان اداروں کو شہری مناظر بہتر بنانے، پارکوں کی دیکھ بھال اور گرین بیلٹس کی بحالی کے لیے اہداف دیے جائیں گے۔ تاہم منظوری دیے جانے اور تمام آسامیوں پر بھرتی مکمل ہو جانے میں فرق ہے؛ دستیاب معلومات میں بھرتی کے اشتہارات، حتمی طریقہ کار یا تقرریوں کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
وزیراعلیٰ نے اضلاع کے لیے وسائل کا الگ منصوبہ تیار کرنے، شہروں اور دیہات میں مرحلہ وار شجرکاری شروع کرنے اور موسمی پھولوں کی کاشت کے لیے ماہانہ منصوبہ بندی کی ہدایت کی۔ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے اشاریے مرتب کرنے اور پودوں کی دستیابی بہتر بنانے کی غرض سے ہر ضلع میں اپنی نرسری قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں پارکس کے فوڈ کورٹس کے ڈیزائن کی منظوری اور عملے و گاڑیوں کے لیے یکساں شناخت متعارف کرانے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ نے دستیاب خالی جگہوں میں درخت اور پھول لگانے، شہروں میں گملوں کے یکساں معیار اور گرین بیلٹس کی بحالی پر زور دیا۔ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں باغبانی کی سہولتوں اور عوامی مقامات کی حالت بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار نئے اداروں کی حقیقی فعالیت، مختص وسائل، شجرکاری کی دیکھ بھال اور مقامی سطح پر کارکردگی کی نگرانی پر ہوگا۔ اس مرحلے پر رپورٹ میں درج باتیں صوبائی حکومت کے فیصلوں اور اعلان کردہ اہداف کی عکاسی کرتی ہیں، مکمل نتائج کی نہیں۔
