راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ نے دس اکتوبر کو امن و امان سے متعلق خدشات کے پیش نظر پورے ضلع میں 30 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق حساس تنصیبات، اہم سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حکم کی مدت آٹھ نومبر کو ختم ہونے کے لیے مقرر ہے۔
حکم نامے کے تحت ضلع راولپنڈی میں پانچ سے زیادہ افراد کے عوامی اجتماعات، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کی کھلی نمائش، بعض ایسے آلات اور اشیا ساتھ لے جانے جن سے جسمانی نقصان پہنچ سکتا ہو، اور ڈرون کے استعمال کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے اجتماعات یا ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے پولیس کی قائم کردہ رکاوٹیں زبردستی ہٹانے سے بھی منع کیا ہے۔
ڈان کی جانب سے دیکھی گئی سرکاری دستاویز کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی نے دس اکتوبر کو اپنے اجلاس میں انتظامیہ کو بتایا تھا کہ بعض گروہوں کی ممکنہ نقل و حرکت، بڑے اجتماعات اور حساس مقامات کے قریب سرگرمیوں سے انسانی جانوں، سرکاری و نجی املاک اور معمولات زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ انٹیلی جنس اداروں کا خطرے سے متعلق جائزہ ہے، کسی مخصوص شخص کے خلاف عدالت کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد ہوئی ہیں جب پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی لانگ مارچ خیبر پختونخوا میں جاری ہے اور اس کی قیادت پہلے وفاقی دارالحکومت کی طرف بڑھنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ سیاسی پس منظر اپنی جگہ، تاہم انتظامیہ نے باضابطہ حکم نامے کی وجہ حساس تنصیبات اور امن و امان کے لیے ممکنہ خطرات کو بتایا ہے۔
دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کی وہ شق ہے جس کے ذریعے متعلقہ انتظامی حکام مخصوص مدت کے لیے عوامی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بعض اجتماعات یا سرگرمیوں کو محدود کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے اسلام آباد میں بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کی جا چکی ہے، جبکہ لاہور میں الگ حکم کے تحت پابندی نافذ ہے۔ راولپنڈی میں موجودہ حکم کو انہی دوسرے شہروں کے احکامات کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی جغرافیائی حدود اور اختتامی تاریخ الگ ہیں۔
شہریوں، سیاسی کارکنوں اور تقریب یا اجتماع کے منتظمین کے لیے اہم ہے کہ وہ اس حکم کی حدود اور انتظامیہ کی تازہ ہدایات سے آگاہ رہیں۔ تاحال دستیاب اطلاع ایک نئے انتظامی حکم کے اجرا کی ہے؛ اس بنیاد پر کسی متوقع احتجاج، تشدد یا گرفتاریاں ہونے کو یقینی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
