کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بارکھان میں محکمہ انسداد دہشت گردی، سی ٹی ڈی، کی خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران دس مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سی ٹی ڈی اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے بعد اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔ واقعے کی تفصیلات فی الحال بنیادی طور پر صوبائی حکام کے بیانات سے سامنے آئی ہیں۔

ڈان کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ سے وابستہ بابر یوسفزئی نے بتایا کہ متعلقہ علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی نے ہدفی کارروائی شروع کی۔ ان کے مطابق اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دس افراد مارے گئے اور دو اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام نے کارروائی میں مارے جانے والوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، تاہم رپورٹ میں ان کی انفرادی شناخت یا ان کے خلاف سابقہ مقدمات کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

صوبائی حکام نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد ایک ایسے گروہ سے تعلق رکھتے تھے جسے ریاستی بیانات میں فتنۃ الہندوستان کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح حکومت اور سکیورٹی ادارے بعض بلوچ مسلح گروہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ بھارت کی مبینہ سرپرستی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ اس خبر میں یہ نسبت حکام کے مؤقف کے طور پر درج کی جا رہی ہے، کسی غیرجانبدارانہ تحقیقات سے ثابت شدہ نتیجے کے طور پر نہیں۔

محکمہ داخلہ کے دیگر اہلکاروں کے مطابق زخمی سی ٹی ڈی اہلکاروں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں رارہ شام کے ضلعی ہسپتال پہنچائی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فورس نے کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ برآمد ہونے والے سامان کی مکمل فہرست یا کسی عدالتی کارروائی کی تفصیلات دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فورسز شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔ یہ وزیراعلیٰ کا ردعمل ہے، جبکہ کارروائی سے متعلق ابتدائی معلومات کی مزید جانچ الگ معاملہ ہے۔

بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں مختلف اضلاع سے کارروائیوں اور حملوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ ڈان کے مطابق 7 اکتوبر کو مستونگ میں بھی پانچ مسلح افراد کی ہلاکت کی اطلاع سرکاری میڈیا نے دی تھی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ جائزے کے مطابق بلوچستان میں رپورٹ ہونے والے حملوں کی تعداد جولائی کے 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہوئی تھی۔

بارکھان کی تازہ کارروائی کے بارے میں حکام کے پیش کردہ ہلاکتوں اور برآمدگی کے اعداد و شمار کو رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ مزید شناخت، تفتیش یا آزادانہ ثبوت سامنے آنے تک اس واقعے سے متعلق دیگر دعوؤں کو سرکاری مؤقف کی حد میں رکھنا ضروری ہے۔