پنجاب میں پتوکی، دیپالپور، حاصل پور اور ہارون آباد کو نئے اضلاع کا درجہ دینے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری دونوں نے اس دستاویز کی تردید کی۔ حکام کا واضح مؤقف ہے کہ نہ پنجاب حکومت نے ایسا نوٹیفکیشن جاری کیا اور نہ ہی صوبے میں ان چار نئے اضلاع کے قیام کا فیصلہ ہوا ہے۔

وائرل دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پتوکی، دیپالپور، حاصل پور اور ہارون آباد کو فوری طور پر اضلاع بنا دیا گیا ہے۔ اسی جعلی متن میں پنجاب کے اضلاع کی مجموعی تعداد 41 سے بڑھ کر 45 ہونے کی بات بھی لکھی گئی۔ حکام کی تردید کے بعد یہ دعویٰ قابلِ عمل سرکاری فیصلہ نہیں رہتا اور شہریوں کو اس کی بنیاد پر انتظامی حدود، زمین، عدالت، پولیس یا ضلعی دفاتر سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔

بورڈ آف ریونیو کے ترجمان نے رپورٹ میں تصدیق کی کہ زیر گردش دستاویز من گھڑت ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے بھی سوشل میڈیا پر اسی دعوے کو جعلی قرار دیا۔ دو الگ سرکاری سطح کی تردیدیں اس بات کو مضبوط کرتی ہیں کہ وائرل فائل کو محض اس کی ظاہری شکل، سرکاری زبان یا مہر نما عناصر کی وجہ سے مستند نہیں سمجھا جا سکتا۔

رپورٹ نے دستاویز میں ایک قابلِ جانچ تضاد بھی نشان زد کیا۔ جعلی نوٹیفکیشن میں ظہیر عباس ملک کو پنجاب کا چیف سیکریٹری ظاہر کیا گیا، جبکہ صوبے کے چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان ہیں اور وہ جنوری 2023 سے اس عہدے پر تعینات ہیں۔ کسی سرکاری دستاویز میں عہدہ دار کا غلط نام اس کی صحت پر فوری سوال اٹھاتا ہے، تاہم حتمی تصدیق ہمیشہ اصل سرکاری پورٹل یا متعلقہ محکمے سے ہونی چاہیے۔

نئے ضلع کے قیام جیسے فیصلے سے انتظامی حدود، ریونیو ریکارڈ، پولیس دائرۂ اختیار، عدالتی تقسیم اور سرکاری خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے ایسا فیصلہ عام طور پر باقاعدہ قانونی اور انتظامی عمل کے بعد سرکاری گزٹ یا مستند محکماتی اطلاع میں سامنے آتا ہے۔ موجودہ معاملے میں ایسی کوئی مصدقہ اطلاع پیش نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ حکام نے وائرل دعوے کی براہِ راست تردید کردی ہے۔

شہری کسی بھی غیر معمولی سرکاری اعلان کو آگے بڑھانے سے پہلے پنجاب حکومت، بورڈ آف ریونیو یا سرکاری گزٹ کے مستند ذرائع دیکھیں۔ اس خبر کا نتیجہ محدود اور واضح ہے: چار نامزد شہروں کو نئے اضلاع بنانے کا زیر گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے اور پنجاب میں ایسا کوئی نیا ضلع قائم نہیں کیا گیا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی حقیقی سرکاری فیصلے یا گزٹ نوٹیفکیشن کے اجرا پر خبر کو الگ طور پر اپ ڈیٹ کرے گا۔