لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب Innovation for Value, Opportunity and Transformation، یعنی PIVOT، پروگرام اور اس سے متعلق پورٹل کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت نے اسے تین سالہ معاشی تبدیلی کے فریم ورک کے طور پر پیش کیا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں اضافہ اور صنعت، زراعت، سیاحت، ہنرمندی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مربوط ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پروگرام میں تقریباً 1.089 ٹریلین روپے سرکاری سرمایہ کاری اور 906 ارب روپے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ منصوبہ سازوں نے تین سال میں برآمدات میں 6.8 ارب ڈالر اضافے اور تقریباً 162 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اہداف بھی بیان کیے ہیں۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ مختلف اقدامات سے تقریباً دس لاکھ افراد کے معیار زندگی پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

افتتاحی تقریب میں اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے مختلف اقتصادی شعبوں میں پالیسی، سرمایہ کاری اور عملی منصوبوں کو ایک مشترکہ سمت دینے کی کوشش کی جائے گی۔ مالی وسائل تک رسائی، صنعتی مسابقت اور کاروباری ماحول کے مسائل بھی پروگرام کے تناظر میں زیر بحث آئے۔

PIVOT کے اہداف بلند ہیں، لیکن یہ اعداد موجودہ حاصل شدہ نتائج نہیں بلکہ آئندہ تین برس کے منصوبہ جاتی تخمینے اور اہداف ہیں۔ نجی سرمایہ کاری کا حجم، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کی تخلیق ملکی اور عالمی معاشی حالات، منصوبوں کے بروقت نفاذ، مالیاتی دستیابی اور کاروباری اعتماد پر منحصر ہوگی۔ اسی لیے اعلان کردہ اعداد کو یقینی نتائج کے بجائے پروگرام کے پیمائشی اہداف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

پنجاب پاکستان کی صنعتی اور زرعی پیداوار میں بڑا حصہ رکھتا ہے، اس لیے صوبائی سطح پر سرمایہ کاری اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کی کوشش قومی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پروگرام کی اصل کامیابی کا جائزہ اس بات سے لیا جائے گا کہ اعلان کردہ منصوبوں کے لیے کتنی سرمایہ کاری حقیقتاً متحرک ہوتی ہے، برآمدی شعبوں کی پیداوار میں کتنا اضافہ ہوتا ہے اور روزگار کے اہداف کس حد تک حاصل ہوتے ہیں۔