لاہور: پنجاب کے لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعداد کے مطابق صوبے کو 2035 تک شرح خواندگی 90 فیصد تک پہنچانے کے لیے تقریباً 135 ارب روپے درکار ہوں گے۔ ڈان کی رپورٹ میں محکمہ کے انٹرنیشنل لٹریسی ڈے کے موقع پر فراہم کردہ اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کو بیک وقت 96 لاکھ اسکول سے باہر بچوں اور تقریباً 2 کروڑ 68 لاکھ ناخواندہ بالغ افراد کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
محکمہ کے مطابق اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی تعداد 8 سے 16 سال کی عمر کے گروپ میں ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ زیادہ عمر کے ان بچوں کو مکمل طور پر روایتی اسکولی نظام میں شامل کرنا عملی طور پر مشکل ہے، اس لیے نان فارمل تعلیم کو ایک لچک دار اور بڑے پیمانے پر قابل توسیع راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ بالغوں کے لیے کمیونٹی سطح پر مختصر دورانیے کے پروگرام چلانے والے ایڈلٹ لٹریسی سینٹرز بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دستیاب محکمانہ اعداد کے مطابق پنجاب میں 20 ہزار 273 نان فارمل اسکول قائم ہیں جہاں 5 لاکھ 93 ہزار سے زیادہ بچوں کو تعلیمی رسائی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ تمام 36 اضلاع میں 1,260 بالغ خواندگی مراکز کام کر رہے ہیں۔ ان اعداد میں مختلف مواقع پر محکمہ کے حکام کی جانب سے 21 ہزار سے زیادہ نان فارمل اسکولوں اور تقریباً سات لاکھ بچوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگرام کے مختلف انتظامی شمار یا تازہ تخمینوں میں فرق موجود ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر شہری کو خواندگی کے مواقع دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور نوجوان نسل کی ڈیجیٹل خواندگی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تقریب میں محکمہ لٹریسی کے حکام کے ساتھ یونیسف اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
135 ارب روپے کی ضرورت ایک منصوبہ جاتی تخمینہ ہے، نہ کہ اس پوری رقم کی فوری منظوری یا اجرا۔ اسی طرح 2035 تک 90 فیصد شرح خواندگی ایک ہدف ہے جس کے حصول کا انحصار مسلسل مالی وسائل، اساتذہ و سہولت کاروں، نان فارمل مراکز کی توسیع، بچوں کی برقرار رہنے کی شرح اور بالغ خواندگی پروگراموں کی کارکردگی پر ہوگا۔
محکمہ کے اعداد پنجاب کے تعلیمی مسئلے کی وسعت کو نمایاں کرتے ہیں: لاکھوں بچے رسمی نظام سے باہر ہیں جبکہ بالغ ناخواندگی بھی کروڑوں میں ہے۔ حکومت کی موجودہ حکمت عملی میں نان فارمل اسکولوں اور بالغ خواندگی مراکز کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے، تاہم 2035 کے ہدف تک پیش رفت کا حتمی اندازہ آنے والے برسوں کے بجٹ، داخلوں، تکمیل کی شرح اور آزادانہ تعلیمی نتائج سے ہی ممکن ہوگا۔




