لاہور: پنجاب میں 2026 کے مون سون سیزن کے دوران بارشوں اور متعلقہ واقعات میں 65 افراد جان سے گئے اور 382 زخمی ہوئے، جبکہ 224 مکانات کو نقصان پہنچا۔ ڈان کے مطابق یہ اعداد و شمار صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کی اس رپورٹ میں جاری کیے گئے جو مون سون سیزن کے اختتام پر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں 21 مویشیوں کے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں سیزن کے دوران غیر معمولی طور پر زیادہ بارش ہوئی۔ راولپنڈی میں مجموعی طور پر 1,505 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو رپورٹ میں سب سے زیادہ تھی۔ لاہور میں 1,316 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 1,256 ملی میٹر اور گوجرانوالہ میں 1,161 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

دیگر اضلاع میں جہلم میں 935 ملی میٹر، گجرات میں 865، منڈی بہاؤالدین میں 810، نارووال میں 786، مری میں 757، اٹک میں 749، وزیرآباد میں 741 اور منگلا میں 602 ملی میٹر بارش رپورٹ ہوئی۔ یہ اعداد پورے مون سون سیزن کی مجموعی بارش کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ کسی ایک دن یا ایک بارش کے سلسلے کو۔

رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ کے بعض حصوں میں نالہ بھیڈ اور نالہ ڈیک کے بہاؤ نے سیلابی صورت حال پیدا کی۔ فیروزوالہ اور مریدکے میں 58 دیہات زیر آب آئے، جبکہ مجموعی طور پر 83 ریونیو اسٹیٹس اور 43,188 ایکڑ زمین متاثر ہوئی۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ شیخوپورہ میں فصلوں اور گھروں کے نقصانات کے معاوضے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو پنجاب حکومت کی پالیسی کے تحت ادائیگی کی جائے گی۔

مون سون رپورٹ صوبے میں انسانی جانوں، املاک، زراعت اور مقامی آبادیوں پر بارشوں کے اثرات کا مجموعی سرکاری جائزہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم ان اعداد سے کسی ایک موسمی عامل یا طویل مدتی موسمیاتی تبدیلی کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اس نوعیت کے نتیجے کے لیے الگ موسمیاتی تجزیہ درکار ہوتا ہے۔ رپورٹ کا قابل تصدیق خلاصہ یہ ہے کہ 2026 کے مون سون نے پنجاب میں نمایاں جانی و مالی نقصان کیا اور متعدد بڑے شہروں میں بہت زیادہ موسمی بارش ریکارڈ ہوئی۔