راولپنڈی: پنجاب کے محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے چوتھے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 6,460 اسکول اس عمل میں شامل کیے جائیں گے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ان میں 5,860 پرائمری اور مڈل اسکول جبکہ 600 ہائی اسکول شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہائی اسکول پہلی بار اس آؤٹ سورسنگ پروگرام کا حصہ بنائے جا رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم پہلے تین مراحل میں 13,600 سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ مکمل کر چکا ہے۔ چوتھے مرحلے کے فیصلے سے پروگرام کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 100 تک طلبہ کے اندراج والے اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس اقدام کے عملی طریقہ کار اور ہر متاثرہ اسکول کی حتمی فہرست کے بارے میں مزید انتظامی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے سامنے آنا باقی ہو سکتی ہیں۔
محکمہ نے سرکاری اسکولوں میں نئے داخلے 31 اکتوبر تک جاری رکھنے اور یکم نومبر سے نئے داخلوں پر پابندی لگانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ اسکول سربراہان کو کہا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک داخلہ عمل مکمل کیا جائے۔ یہ ہدایات آؤٹ سورسنگ کے نئے مرحلے کے ساتھ سامنے آئی ہیں اور ان کا اطلاق متعلقہ سرکاری تعلیمی اداروں کے انتظامی شیڈول پر ہوگا۔
اساتذہ کی تنظیموں اور بعض والدین نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑے پیمانے پر آؤٹ سورسنگ اور کم اندراج والے اسکولوں کی بندش سے سرکاری تعلیم تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے اور اسکول سے باہر بچوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ خدشات مخالف حلقوں کے بیانات ہیں؛ پروگرام کے حتمی تعلیمی اثرات کا تعین عمل درآمد اور بعد کے اعداد و شمار سے ہوگا۔
پنجاب میں سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی یا غیر سرکاری شراکت داری بڑھانے کی پالیسی پہلے ہی متعدد مراحل سے گزر چکی ہے۔ چوتھے مرحلے کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ اس میں ہائی اسکول بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ آئندہ مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ محکمہ تعلیم اسکولوں کے انتخاب، انتظامی منتقلی، اساتذہ کی تعیناتی، فیس یا اخراجات سے متعلق قواعد اور تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے کیا تفصیلی انتظامات جاری کرتا ہے۔

