اسلام آباد: انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کر دیا ہے جس میں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری سکیورٹی بریچ مقدمے کی کارروائی روکنے سے انکار کیا گیا تھا۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دونوں نے الگ مگر ملتی جلتی درخواستوں کے ذریعے فوری عبوری ریلیف مانگا ہے۔
مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر مبینہ رکاوٹ پیدا کرنے، حفاظتی بیریئر ہٹانے اور عوامی بے چینی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ دونوں ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ الزامات استغاثہ کے دعوے ہیں اور مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی عدالت نے نہیں کیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اگر سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے بروقت حکم امتناع نہ ملا تو ان کی زیر التوا قانونی درخواستیں بے اثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے دفاع کو مناسب وقت دیے بغیر گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور کارروائی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی استغاثہ کی درخواست بھی قبول کی۔
دونوں نے دہشت گردی سے متعلق دفعات کے اطلاق کو بھی چیلنج کیا ہے۔ دفاع کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی بیریئر ہٹانے کے مبینہ عمل کو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دوسری جانب استغاثہ نے مقدمہ انہی الزامات اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت آگے بڑھایا ہے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے درخواستوں کے میرٹ پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 19 اکتوبر کو ان اپیلوں پر سماعت کی تھی جو 10 اکتوبر کے انسداد دہشت گردی عدالت کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ ٹرائل کورٹ نے فرد جرم اور دہشت گردی کی دفعات کے خلاف درخواستیں مسترد کی تھیں۔ ہائیکورٹ کی جانب سے فوری طور پر ٹرائل نہ روکنے کے بعد درخواست گزاروں نے اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہونا بذات خود ٹرائل معطل ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ مقدمے کی کارروائی میں تبدیلی اسی صورت ہوگی جب متعلقہ عدالت باضابطہ حکم جاری کرے۔ اسی طرح درخواستوں میں سیاسی انتقام یا منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی سے متعلق مؤقف درخواست گزاروں کے الزامات ہیں، جن کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔

