اسلام آباد: سینیٹ نے 26 اکتوبر کو ایک نجی رکن کے بل کو پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی جس کا مقصد وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیروں، معاونین خصوصی اور بعض اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے عہدے کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ کے حق کو محدود کرنا تھا۔ پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ساتھ پیش کیا تھا۔

مجوزہ قانون میں پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 12 اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے تحت وزیر مملکت، وزیراعظم کے مشیر، معاون خصوصی، سیکرٹری خارجہ کے سوا وفاقی سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل محض اپنے عہدے کی وجہ سے سفارتی پاسپورٹ جاری یا تجدید کرانے کے اہل نہ رہتے۔ پہلے سے موجود ایسے پاسپورٹ قانون نافذ ہونے کے 30 دن کے اندر متعلقہ اتھارٹی کو واپس کرنے کی شق بھی تجویز میں شامل تھی۔

بل میں یہ وضاحت موجود تھی کہ متعلقہ افراد، اگر قواعد کے تحت اہل ہوں، تو عام یا سرکاری پاسپورٹ حاصل یا برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی الگ قانونی عہدے، تقرری یا سفارتی ذمہ داری سے پیدا ہونے والی اہلیت متاثر نہ ہونے کی بات بھی کی گئی تھی۔ بل کے اغراض و مقاصد میں موقف اختیار کیا گیا کہ سفارتی پاسپورٹ خصوصی ریاستی سفری دستاویز ہے اور اس کا اجرا صرف عہدے یا رتبے کے بجائے سفارتی یا ریاستی ذمہ داری کی نوعیت سے منسلک ہونا چاہیے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل کی مخالفت کی۔ دوسری جانب سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے موقف اپنایا کہ سفارتی پاسپورٹ کی تقسیم محدود ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے بحث میں کہا کہ وزیر مملکت بھی پارلیمان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ایوان نے بحث کے بعد بل پیش کرنے کی تحریک منظور نہیں کی۔

اسی اجلاس میں دیگر قانون سازی بھی ہوئی۔ سینیٹ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم سے متعلق ایک بل منظور کیا، جبکہ اسلام آباد میں پلاسٹک بک کورز سے متعلق قانون میں موجود استثنا ختم کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 کو مؤخر کر دیا گیا۔ سفارتی پاسپورٹس سے متعلق تجویز کی ناکامی کا مطلب ہے کہ اس نجی بل کے ذریعے تجویز کردہ نئی پابندیاں فی الحال قانون سازی کے اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہوئیں۔