پنجاب میں رواں سیزن دھان کی کاشت 67 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر ہوئی ہے، جبکہ حکام نے باسمتی کی پیداوار، معیار اور برآمدات بہتر بنانے کے لیے جدید کٹائی اور محفوظ زرعی طریقوں پر زور دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پنجاب کے سیکریٹری زراعت شکیل احمد میاں نے سول سیکریٹریٹ میں رائس مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے باسمتی کو پنجاب کی اہم زرعی شناخت قرار دیا اور متعلقہ محکموں کو کسانوں کی رہنمائی بڑھانے کی ہدایت کی۔

صوبائی حکام نے فصل کی کٹائی میں مشینوں کے بہتر استعمال، کٹائی سے پہلے کیڑے مار ادویات کے محفوظ استعمال اور مشینی ہارویسٹنگ کے ذریعے نقصانات کم کرنے پر زور دیا۔ تاہم چاول کے برآمدی منظرنامے میں دباؤ بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں امریکی محکمہ زراعت کے تازہ گرین آؤٹ لک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ مارکیٹنگ سال میں پاکستان کی چاول برآمدات 48 لاکھ ٹن رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق برآمدات میں ممکنہ کمی کے عوامل میں نسبتاً مضبوط روپیہ، مہنگی ایکسپورٹ فنانسنگ، ریگولیٹری رکاوٹیں اور بھارت سے بڑھتی مسابقت شامل ہیں۔ بھارت نے باسمتی پر اپنی کم از کم برآمدی قیمت ختم کی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قیمت اور مارکیٹ شیئر کا مقابلہ سخت ہو سکتا ہے۔ باسمتی کی قیمتیں سال کے وسط تک تقریباً 1,100 ڈالر فی ٹن بتائی گئیں، جبکہ اپریل کے بعد برآمد کے لیے دستیاب ذخائر میں کمی کی نشاندہی بھی کی گئی۔

اجلاس میں فصل کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی کے مسئلے پر بھی بات ہوئی۔ صوبائی حکومت نے 10 ہزار سبسڈی والے سپر سیڈرز کی تقسیم کو متبادل طریقوں کے فروغ کا حصہ قرار دیا۔ دوسری طرف رپورٹ میں شامل آزاد تخمینوں کے مطابق پنجاب کے گندم۔چاول بیلٹ میں ہر موسم سرما چاول کی باقیات کا بڑا حصہ اب بھی جلایا جاتا ہے۔ کسانوں کی شکایات میں مشینوں کی دستیابی، کرائے کی لاگت اور دھان کی کٹائی کے فوراً بعد گندم کی بوائی کے محدود وقت کا دباؤ شامل ہے۔ اس لیے بڑے زیرکاشت رقبے کے باوجود برآمدی مسابقت، فصل کی باقیات کے انتظام اور پیداواری لاگت اس سیزن کے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔