پنجاب پولیس کی اعلیٰ کمان نے محکمہ کی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ، یعنی داخلی احتساب برانچ، کو بدعنوانی اور محکمانہ بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات کی جانچ میں زیادہ مرکزی اور بااختیار کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اہم منظوریوں کے لیے اجلاس انسپکٹر جنرل پولیس عبد الکریم کی صدارت میں ہوا۔ یہ ایک انتظامی و پالیسی فیصلہ ہے؛ اس سے کسی زیرِ شکایت افسر کا قصور خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پولیس میں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایات کے بعد اجلاس میں موجودہ احتساب نظام، شکایات کے بہاؤ اور انکوائری کے طریقے کا جائزہ لیا گیا۔ پولیس قیادت نے آئی اے بی کو صوبے بھر میں بدعنوانی کے الزامات پر محکمانہ کارروائی شروع کرنے کے لیے زیادہ مؤثر، بااختیار اور فیصلہ کن فورم بنانے کی منظوری دی۔ اجلاس میں اضافی آئی جیز، ڈی آئی جیز اور انسپکشن، شکایات، انتظامیہ، سکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سینئر افسران شریک ہوئے۔

نئی پالیسی کے تحت آئی اے بی کے ڈی آئی جی کو سب انسپکٹر سے اعلیٰ رینک تک کے پولیس اہلکاروں کے خلاف صوبے بھر سے موصول ہونے والی شکایات کا روزانہ جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ روزانہ جانچ کا مقصد اہم یا فوری نوعیت کے معاملات کو جلد شناخت کرنا اور شکایت کو غیر ضروری تاخیر سے بچانا بتایا گیا ہے۔ تاہم شکایت موصول ہونا یا ابتدائی طور پر قابلِ جانچ قرار پانا محکمانہ الزام ثابت ہونے کے برابر نہیں ہوگا۔

ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ سب انسپکٹر اور اس سے اوپر کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی یا بدعنوان طرزِ عمل کی انکوائریاں آئی اے بی کے علاقائی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس خود کریں گے۔ پہلے ایسے معاملات اکثر متعلقہ ضلع یا ریجن کو واپس بھیج دیے جاتے تھے۔ رپورٹ میں ایک سینئر افسر کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مقامی سطح پر واپسی سے زیرِ شکایت اہلکار کو کارروائی پر اثرانداز ہونے کا موقع مل سکتا تھا۔ نئی پالیسی کے تحت یہ انکوائریاں متعلقہ ضلع یا ریجن کو نہیں بھیجی جائیں گی۔

اجلاس نے ان شکایات کو دوبارہ کھولنے کا بھی فیصلہ کیا جو اس بنیاد پر نمٹا دی گئی تھیں کہ شکایت کنندہ مزید پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ جہاں ضروری سمجھا جائے گا، نئی انکوائری شروع کی جاسکے گی۔ اس اقدام کا مقصد دباؤ، مصالحت یا شکایت واپس لینے کے ممکنہ حالات کے باوجود معاملے کی نوعیت کو آزادانہ طور پر دیکھنا ہے، لیکن ہر پرانا کیس دوبارہ کھلنے یا ہر شکایت درست ثابت ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تفتیشی عمل سے متعلق شکایات کو مزید کارروائی کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آئی اے بی کا ڈی آئی جی برانچ کی انکوائریوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی تادیبی کارروائی کی نگرانی کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر معاملہ سینٹرل پولیس آفس میں بھی زیرِ جائزہ آسکے گا۔ اس نگرانی کا مقصد انکوائری مکمل ہونے کے بعد سفارش اور محکمانہ فیصلے کے درمیان پیش رفت کا ریکارڈ برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔

برانچ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل انکوائریز کا عہدہ بحال کرنے اور علاقائی ایس پیز و ڈی ایس پیز کی تمام خالی آسامیوں پر ترجیحی تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔ پولیس قیادت نے آئی اے بی کو مناسب فنڈز اور اضافی بجٹ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے مالی اور انتظامی طور پر زیادہ خودمختار بنایا جاسکے۔ رپورٹ میں بجٹ کی مقدار، آسامیوں کی تعداد یا تقرری کی حتمی مدت نہیں بتائی گئی۔

آئی جی نے احتسابی عمل میں اسپیشل برانچ کی فراہم کردہ معلومات سے استفادہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔ ایسی معلومات انکوائری کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہیں، مگر منصفانہ محکمانہ کارروائی کے لیے الزام، قابلِ جانچ ثبوت، متعلقہ افسر کا جواب اور مجاز اتھارٹی کا تحریری فیصلہ ضروری رہیں گے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت آئی اے بی کی تنظیم نو، شکایات کی روزانہ جانچ، علاقائی آئی اے بی افسران سے براہ راست انکوائری، بعض بند شکایات دوبارہ کھولنے، تادیبی کارروائی کی مرکزی نگرانی، خالی آسامیوں کی تقرری اور اضافی وسائل کی منظوری ہے۔ اس نظام کے عملی اثر کا تعین شفاف فیصلوں، مکمل ہونے والی انکوائریوں اور اپیل کے منصفانہ عمل سے ہوگا۔