لاہور: پنجاب حکومت نے موسمِ سرما کے شدید اسموگ سے پہلے فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع پر قابو پانے کے لیے صوبہ بھر میں پیشگی کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے متعلقہ محکموں، بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی ایجنسیوں کو کچرا جلانے، تعمیراتی دھول، خشک صفائی، فصلوں کی باقیات جلانے، اینٹوں کے بھٹوں اور گاڑیوں کے دھوئیں کے خلاف قواعد پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کو خشک جھاڑو کے بجائے مکینیکل یا گیلی صفائی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ ادارے کے مطابق خشک صفائی سے سڑکوں پر جمی گرد دوبارہ فضا میں شامل ہوتی ہے اور بالخصوص مصروف شاہراہوں پر باریک ذرات کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ کھلے مقامات پر کوڑا، پتے اور دیگر ٹھوس فضلہ جلانے پر پابندی پر عملدرآمد اور ایسے مقامات کی باقاعدہ نگرانی کا بھی کہا گیا ہے۔

تعمیراتی منصوبوں کے لیے پانی کا چھڑکاؤ، تعمیراتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ڈھانپنے اور گرد روکنے والی رکاوٹیں لگانے سمیت پہلے سے جاری ضابطوں پر سخت عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ ای پی اے نے تجویز دی ہے کہ ماحولیاتی شرائط کو ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد کی لازمی شرائط میں شامل کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں بعض زیر تعمیر منصوبوں کے معائنے کے دوران گرد پر قابو پانے کے اقدامات ناکافی پائے گئے تھے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے انتظامیہ کو گزشتہ برس کی انسدادِ اسموگ حکمت عملی مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔ فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری سے ٹھکانے لگانے، پلاسٹک جلانے کی روک تھام اور زیگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا کہا گیا ہے۔ دھواں خارج کرنے والے ریستورانوں اور باربی کیو مراکز کی نگرانی بھی بڑھائی جائے گی۔

لاہور میں داخل ہونے والی بھاری اور ہلکی گاڑیوں کے اخراج کی جانچ سخت کرنے کے ساتھ موٹر سائیکلوں کی مسلسل نگرانی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سے خلاف ورزیوں کی نشاندہی میں مدد لی جائے گی۔ یہ اقدامات اس پالیسی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں اکتوبر سے جنوری کے دوران فضائی معیار خراب ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے آلودگی کے ذرائع کو پہلے محدود کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کی عملی کامیابی کا انحصار مسلسل نفاذ، نگرانی اور عوامی تعاون پر ہوگا۔