لاہور: پنجاب حکومت نے دیہی علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو نئے اہداف دیے ہیں، جن کے تحت کم از کم 70 فیصد گھرانوں سے گھر گھر کچرا جمع کرنے کی کوریج یقینی بنانا ہوگی۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی نے صوبے کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں صفائی کی موجودہ صلاحیت، مشینری اور افرادی قوت کا جائزہ لے کر درکار وسائل کی تفصیلات فراہم کریں۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں گھر گھر ویسٹ کلیکشن کے ساتھ صفائی کا عمل کم از کم ایک دن چھوڑ کر انجام دیا جائے۔ اس انتظام کا مقصد ان علاقوں میں باقاعدہ سروس کوریج قائم کرنا ہے جہاں آبادی کے پھیلاؤ اور محدود بلدیاتی وسائل کے باعث شہری علاقوں جیسا روزانہ صفائی کا نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مقررہ 70 فیصد ہدف ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک واضح پیمانہ فراہم کرتا ہے۔
اتھارٹی نے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو صفائی کارکنوں سے براہ راست رابطہ رکھنے، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے اور انہیں راشن کارڈ اسکیم تک رسائی میں سہولت دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس پہلو سے پروگرام صرف مشینری اور کچرا اٹھانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کے انتظامی اور فلاحی معاملات کو بھی ضلعی نگرانی کا حصہ بناتا ہے۔
فیلڈ مانیٹرنگ افسران کی تربیت اور ان کے لیے واضح کارکردگی اہداف مقرر کرنے کا بھی کہا گیا ہے تاکہ مختلف اضلاع میں صفائی کی صورتحال کو یکساں پیمانوں پر جانچا جا سکے۔ حکام سے دستیاب وسائل اور اضافی ضروریات کی تفصیلی معلومات مانگنے کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کن علاقوں میں گاڑیوں، مشینری یا افرادی قوت کی کمی سروس کوریج میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
ان ہدایات کی کامیابی کا انحصار ضلعی سطح پر عمل درآمد، فنڈز کی دستیابی، عملے کی بروقت ادائیگی اور جمع کیے گئے کچرے کی محفوظ منتقلی و تلفی پر ہوگا۔ فی الحال ستھرا پنجاب اتھارٹی نے دیہی صفائی کے لیے قابلِ پیمائش کوریج ہدف اور انتظامی ذمہ داریاں واضح کر دی ہیں۔

