لاہور: پنجاب حکومت نے ممکنہ دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبے بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ حکم کے تحت ایسے اجتماعات اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جنہیں انتظامیہ موجودہ سکیورٹی صورتحال میں عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم جاری ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی پنجاب میں سیاسی رابطہ اور متحرک ہونے کی سرگرمیوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے صوبے کے مختلف شہروں کے دوروں کا پروگرام بھی سیاسی ماحول کو مزید متحرک کررہا ہے۔

صوبائی حکومت نے پابندی کا بنیادی جواز سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔ دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کے تحت انتظامیہ کو مخصوص مدت کے لیے اجتماعات یا بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اختیار دیتی ہے۔ اس نوعیت کے احکامات کا عملی دائرہ سرکاری نوٹیفکیشن میں درج شرائط کے مطابق طے ہوتا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

سیاسی سرگرمیوں کے دوران دفعہ 144 کا نفاذ عموماً حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث کا باعث بنتا ہے، کیونکہ انتظامیہ اسے امن و امان کے تحفظ سے جوڑتی ہے جبکہ سیاسی جماعتیں ایسے اقدامات کے اپنے اجتماعات پر اثرات کا جائزہ لیتی ہیں۔ موجودہ حکم کے معاملے میں بھی سکیورٹی جواز اور سیاسی سرگرمیوں کا وقت ایک ساتھ سامنے آیا ہے، تاہم رپورٹ میں پابندی کی بنیاد ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کو بتایا گیا ہے۔

پانچ روزہ مدت کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکم پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوں گی۔ شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع یا سرگرمی سے پہلے متعلقہ سرکاری ہدایات دیکھیں، کیونکہ پابندیوں کی تفصیلات اور نفاذ مقامی انتظامی احکامات کے تحت لاگو ہوسکتے ہیں۔