ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے تصفیے کے لیے آئندہ مذاکرات کا مقصد محض مختصر مدت کی جنگ بندی نہیں بلکہ ایسا حتمی انتظام ہونا چاہیے جو روس اور یوکرین دونوں کے لیے سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرے اور یورپ کے وسیع تر سکیورٹی ڈھانچے کو بھی زیر بحث لائے۔ انہوں نے یہ بات امریکی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے ایک روز بعد روسی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں کہی۔
پیوٹن نے تصدیق کی کہ روس اگلے ماہ امریکی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ رابطے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کی سلامتی کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہونی چاہیے، نہ کہ صرف محدود مدت کے لیے لڑائی روکنے پر۔ انہوں نے کہا کہ وٹکوف نے بھی گفتگو کو یورپی سلامتی کے مجموعی ڈھانچے تک وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ماسکو اس نقطۂ نظر سے اتفاق کرتا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس ہفتے ناروے میں وٹکوف سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ کیف مذاکرات کے لیے تیار ہے اور توقع ہے کہ بات چیت اگلے ماہ کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔ زیلنسکی نے جنگ بندی، توانائی کے شعبے سے متعلق محدود جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر اقدامات سمیت تجاویز کی حمایت کا اظہار کیا۔ امریکہ کی قیادت میں مذاکراتی کوششیں اس سال فروری میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گئی تھیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان سب سے مشکل معاملات میں علاقائی تنازع بدستور نمایاں ہے۔ ماسکو مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے کے باقی حصوں پر بھی دعویٰ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کیف ان علاقوں سے دستبردار ہو جن پر وہ اب بھی قابض ہے۔ یوکرین اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقے چھوڑنے کے مطالبے کو مسترد کرتا رہا ہے۔ پیوٹن نے اپنے تازہ بیان میں مشرقی علاقوں کو تاریخی روسی سرزمین قرار دینے کا پرانا مؤقف دہرایا، جسے یوکرین قبول نہیں کرتا۔
تازہ بیانات مذاکرات کی ممکنہ بحالی کا اشارہ دیتے ہیں، لیکن یہ کسی امن معاہدے یا جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہیں۔ فریقین کے علاقائی مطالبات، سلامتی کی ضمانتوں کی نوعیت اور ممکنہ جنگ بندی کی ترتیب پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ اس لیے اگلے ماہ بات چیت کی تیاری کو سفارتی پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، تاہم حتمی تصفیے کے امکانات کا انحصار مذاکرات میں ٹھوس شرائط پر اتفاق سے ہوگا۔
