واشنگٹن: امریکا کی ایک وفاقی عدالت کے مجسٹریٹ جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف دائر 10 ارب ڈالر کے ہتک عزت مقدمے میں 11 دسمبر تک حلفیہ بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق اگر مدعی مقررہ عدالتی عمل کی تعمیل نہیں کرتے تو مقدمے کے مستقبل پر اثر پڑ سکتا ہے اور اسے خارج کیے جانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ حکم اس تنازع کے بعد سامنے آیا جس میں بی بی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے سوالات کے لیے دستیابی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ امریکی مجسٹریٹ جج اینجولیک لیٹ نے صدر کو deposition یعنی حلف کے تحت سوالات کے جواب دینے کے عمل کے لیے مقررہ مدت کے اندر پیش ہونے کی ہدایت کی۔

ہتک عزت کے مقدمے میں ٹرمپ نے بی بی سی سے بھاری ہرجانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس مرحلے پر عدالت نے دعوے کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ مقدمے کی پیش رفت کے لیے ضروری دریافت اور گواہی کے عمل سے متعلق حکم جاری کیا ہے۔ اس لیے 10 ارب ڈالر کی رقم کو عدالتی طور پر منظور شدہ ہرجانہ نہیں بلکہ مدعی کا مطالبہ سمجھنا ضروری ہے۔

بی بی سی کی جانب سے عدالتی کارروائی میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ مدعی کو بھی دوسرے فریق کی طرح سوالات اور دستاویزی عمل میں تعاون کرنا چاہیے۔ عدالت کی تازہ ہدایت اسی procedural مرحلے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مقدمے کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانا ہے۔

اگر صدر مقررہ تاریخ تک بیان ریکارڈ کراتے ہیں تو مقدمہ دریافت کے اگلے مراحل میں داخل ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں عدالت کے پاس پابندیوں یا مقدمہ خارج کرنے سمیت مختلف قانونی اختیارات ہو سکتے ہیں۔ حتمی نتیجہ آئندہ سماعتوں اور دونوں فریقوں کی عدالتی تعمیل پر منحصر ہوگا۔