پاکستان نے اقوام متحدہ میں بیرونی خلا کو مسلح تصادم سے محفوظ رکھنے کے لیے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی، جو تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کے امور دیکھتی ہے، میں پاکستانی مندوب حشام احمد نے کہا کہ خلائی عسکریت پسندی اب محض نظریاتی خدشہ نہیں رہی اور مدار میں فوجی صلاحیتوں کی بڑھتی موجودگی عالمی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔
پاکستانی نمائندے نے Prevention of an Arms Race in Outer Space، یعنی PAROS، کے تحت ایک جامع قانونی فریم ورک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خلا کو آئندہ نسلوں کے لیے تنازع سے پاک رکھنے کے لیے صرف سیاسی اعلانات یا رضاکارانہ اصول کافی نہیں ہوں گے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خلائی سرگرمیوں میں شفافیت اور اعتماد سازی کے اقدامات مفید ہیں، لیکن انہیں ہتھیاروں کی تنصیب اور طاقت کے استعمال کو روکنے والے قابل نفاذ قواعد کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
بیان میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی کہ جدید معیشتیں، مواصلات، نیویگیشن، موسم کی نگرانی، مالیاتی نظام اور آفات کے انتظام سمیت متعدد بنیادی خدمات سیٹلائٹ انفراسٹرکچر پر انحصار کرتی ہیں۔ کسی بڑے خلائی تنازع یا مدار میں ہتھیاروں کے استعمال سے نہ صرف فوجی اثاثے بلکہ شہری خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ خلائی ملبہ طویل مدت تک دوسرے سیٹلائٹس اور انسانی خلائی مشنز کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
پاکستان نے مساوی اور غیر امتیازی خلائی سلامتی کے اصول کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے بیرونی خلا تک رسائی کا حق ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ پاکستان نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی جو چند ریاستوں کو یکطرفہ فوجی برتری دیں یا ترقی پذیر ممالک کے پرامن خلائی پروگراموں پر غیر متناسب پابندیاں عائد کریں۔
PAROS پر عالمی سطح پر کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے، لیکن ابھی تک ایسا جامع قانونی معاہدہ وجود میں نہیں آیا جو خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی اور مسلح تصادم کے خطرات کو مکمل طور پر منظم کرے۔ پاکستان کا تازہ بیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی سفارتی اپیل ہے؛ اسے کسی نئے بین الاقوامی معاہدے کی منظوری یا نفاذ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی پابند معاہدے کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان وسیع سیاسی اتفاق اور تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔

