انقرہ: کینیڈا اور ترکیہ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو ’اسٹریٹجک شراکت داری‘ کی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے ترکیہ کے پہلے دوطرفہ دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ دونوں نیٹو اتحادیوں نے دفاع، توانائی اور فضائی نقل و حمل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
کینیڈا کی حکومت حالیہ امریکی تجارتی کشیدگی کے تناظر میں اپنی برآمدی منڈیوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کارنی کا دورہ اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں اوٹاوا امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے کے لیے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ نئے اقتصادی روابط تلاش کر رہا ہے۔
ترک صدر اردوان نے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف پیش کیا۔ اس مقصد کے لیے کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں حکومتوں نے دفاعی صنعت اور توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات پر اتفاق کیا، تاہم ہر منصوبے کی مالی اور عملی تفصیلات الگ مراحل میں طے ہوں گی۔
فضائی نقل و حمل سے متعلق اقدامات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور تجارتی و سیاحتی آمدورفت کو سہولت دینا ہے۔ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان سیاسی مکالمے کو بھی زیادہ منظم بنانے کی کوشش ہے، تاکہ نیٹو، علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت سے متعلق امور پر رابطہ بڑھایا جا سکے۔
نئی شراکت داری فوری طور پر کسی مشترکہ دفاعی ذمہ داری یا آزاد تجارتی معاہدے کے مساوی نہیں ہے۔ اس کے حقیقی معاشی اثرات کا انحصار آنے والے مہینوں اور برسوں میں ہونے والے عملی معاہدوں اور سرمایہ کاری پر ہوگا۔ تاہم دونوں حکومتوں کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ اوٹاوا اور انقرہ اپنے تعلقات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔
