کراچی: پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس کی ایک اہم کھیپ موصول ہوئی ہے، جس میں المرونہ نامی ٹینکر تقریباً 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر پورٹ قاسم پہنچا۔ جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان کا رخ کیا، جہاں حالیہ علاقائی کشیدگی اور بحری خطرات کے باعث تجارتی جہاز رانی معمول سے نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق المرونہ قطر سے منسلک ان چند ایل این جی جہازوں میں شامل تھا جن کی آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت حالیہ دنوں میں دیکھی گئی۔ رائٹرز کی الگ رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے صرف سات جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ ہوئی، جبکہ حالیہ دس روزہ اوسط تقریباً 15 اور ایران جنگ سے پہلے روزانہ اوسط تقریباً 125 جہاز تھی۔ ایسے ماحول میں پاکستان پہنچنے والی قطری کھیپ توانائی کی فراہمی کے نقطۂ نظر سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
المرونہ کے علاوہ قطر انرجی سے منسلک دو دیگر ایل این جی جہاز بھی آبنائے ہرمز کے علاقے میں ٹریک کیے گئے۔ رائٹرز کے مطابق المرونہ کی پاکستان کو ڈیلیوری جولائی کے بعد قطر سے منسلک ٹینکر کے ذریعے پاکستان پہنچنے والی پہلی معلوم ایل این جی کھیپ ہے۔ یہ تفصیل دستیاب شپنگ ٹریکنگ ڈیٹا پر مبنی ہے اور ایسے جہاز جو اپنے ٹرانسپونڈر بند رکھیں وہ عمومی تجارتی ڈیٹا میں ظاہر نہیں ہوتے۔
پاکستان اپنی بجلی، صنعت اور شہری گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں یا قطر سے ترسیل میں تاخیر ملکی توانائی انتظام پر براہ راست دباؤ ڈال سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی نے نہ صرف خام تیل بلکہ ایل این جی اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی نقل و حمل کے لیے بھی خطرات بڑھائے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیجی توانائی برآمدات کے لیے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہازوں کی کم تعداد، سکیورٹی خطرات اور بیمہ و فریٹ لاگت میں ممکنہ اضافہ درآمد کنندہ ممالک کے لیے اضافی چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے موجودہ کارگو فوری سپلائی میں مدد دے گا، تاہم ایک کھیپ سے وسیع علاقائی رسک ختم نہیں ہوتا۔
اس کھیپ کی آمد کو پاکستان کی ایل این جی سپلائی کے لیے مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، مگر آئندہ ہفتوں میں قطر سے مزید کارگوز کی بروقت روانگی، ہرمز کی جہاز رانی کی صورتحال اور عالمی گیس قیمتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ ملک کی درآمدی توانائی سپلائی کتنی مستحکم رہتی ہے۔




