اسلام آباد/دوحہ: قطر انرجی نے آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث پاکستان سمیت بعض ایشیائی خریداروں کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی سے متعلق فورس میجر نوٹس میں توسیع کر دی ہے۔ روئٹرز نے دو تجارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت ایشیائی صارفین کو بتایا گیا ہے کہ فورس میجر کی مدت نومبر تک برقرار رہے گی، جس کے دوران طے شدہ کارگو متاثر ہو سکتے ہیں۔

فورس میجر ایک تجارتی و قانونی شق ہے جس کے تحت غیر معمولی اور فریق کے کنٹرول سے باہر حالات میں معاہدے کی بعض ذمہ داریوں کی عدم تکمیل پر عارضی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ معاملے میں قطر سے ایل این جی کی برآمدات آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا۔ایران جنگ کے نتیجے میں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق قطر کی ایل این جی برآمدات اپریل کے بعد تیزی سے کم ہوئی ہیں، اور اگست کے اختتام تک معمول کے مقابلے میں کارگو کی تعداد میں بہت بڑی کمی دیکھی گئی۔

اطالوی توانائی کمپنی ایڈیسن نے بھی تصدیق کی کہ قطر انرجی کی جانب سے اس کے لیے فورس میجر میں مزید توسیع کی گئی ہے اور اسے دسمبر کے آغاز تک قطر سے ایل این جی کارگو موصول نہیں ہوں گے۔ ایڈیسن قطر کے بڑے یورپی خریداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے پاس قطر انرجی کے ساتھ طویل مدتی گیس معاہدہ ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ متبادل ذرائع سے سپلائی حاصل کر کے اپنے صارفین کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ ملک بجلی اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔ قطر پاکستان کے اہم طویل مدتی ایل این جی سپلائرز میں سے ہے۔ فورس میجر میں توسیع کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے تمام قطری کارگو لازماً منسوخ ہو گئے ہیں؛ دستیاب رپورٹنگ صرف یہ بتاتی ہے کہ بعض ایشیائی صارفین کو نومبر تک تعطل یا عدم فراہمی کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ پاکستان میں حقیقی سپلائی اثرات کا انحصار کنٹریکٹ شیڈول، متبادل کارگوز، اسپاٹ مارکیٹ خریداری اور مقامی طلب پر ہوگا۔

عالمی گیس منڈی میں اس تعطل نے دوسرے سپلائرز سے کارگو کی طلب بڑھا دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شمالی نصف کرہ میں موسم سرما کی خریداری شروع ہو رہی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال طویل ہوتی ہے تو یورپ اور ایشیا کے خریداروں کے درمیان متبادل ایل این جی کے لیے مسابقت قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ تاہم قیمتوں اور پاکستان کے حتمی درآمدی بل سے متعلق کسی مخصوص اضافے کی تصدیق اس مرحلے پر نہیں ہوئی۔