اسلام آباد: قطر انرجی کی جانب سے فورس میژور کی مدت بڑھائے جانے کے بعد پاکستان کے گیس خریداروں کو معاہدہ شدہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل 2026 کے اختتام تک معطل رہنے کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اطالوی خریدار ایڈیسن کے ساتھ پاکستانی صارفین کو بھی قطر انرجی کی سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ سردیوں میں گھریلو اور بجلی کے شعبے کی گیس طلب بڑھ جاتی ہے اور درآمدی ایل این جی ملکی گیس نظام میں طلب و رسد کا فرق کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آنے والے کارگوز میں غیر یقینی کی صورت میں حکام کو متبادل سپلائی، اسپاٹ مارکیٹ خریداری یا شعبہ وار لوڈ مینجمنٹ جیسے انتظامات پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی اس سے قبل سامنے آنے والی دستاویزات میں بھی خبردار کیا گیا تھا کہ قطر انرجی کی جانب سے مارچ 2026 سے جاری فورس میژور اور مشرق وسطیٰ و خلیج کی کشیدہ صورتحال کے باعث معاہدہ شدہ ایل این جی کارگوز کی دستیابی غیر یقینی ہے۔ انہی دستاویزات کے مطابق حکومت نے نومبر 2026 سے فروری 2027 تک موسم سرما کے لیے گیس لوڈ مینجمنٹ منصوبہ تیار کیا تھا، جس میں گھریلو صارفین کو ترجیح دینے اور شدید قلت کی صورت میں دیگر شعبوں کی سپلائی محدود کرنے کے امکانات شامل تھے۔
پاکستان نے رواں سال بعض ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے بھی ایل این جی خریدی، تاہم بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور خطے کی کشیدگی کے باعث فوری خریداری مہنگی اور مشکل ہو سکتی ہے۔ اس لیے معاہدہ شدہ قطری کارگوز کی عدم دستیابی صرف مقدار کا مسئلہ نہیں بلکہ درآمدی لاگت اور گیس شعبے کے مالی دباؤ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
تازہ رپورٹ سپلائی معطلی اور فورس میژور کی توسیع سے متعلق ہے؛ یہ اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کہ پاکستان میں تمام صارفین کے لیے گیس دستیاب نہیں ہوگی۔ عملی اثر کا انحصار مقامی پیداوار، ذخائر، متبادل کارگوز، موسم سرما کی حقیقی طلب اور حکومت کے لوڈ مینجمنٹ فیصلوں پر ہوگا۔
