دوحہ: دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں شامل قطر نے آبنائے ہرمز میں مستقبل کی ممکنہ رکاوٹوں سے اپنی آمدنی کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا اور دیگر ممالک سے طویل مدتی ایل این جی سپلائی خریدنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر مملکت برائے توانائی سعد شریدہ الکعبی نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی بیرونی سپلائی کو اپنے عالمی تجارتی پورٹ فولیو کا حصہ بنا رہی ہے تاکہ خلیجی برآمدی راستہ متاثر ہونے کی صورت میں متبادل تجارتی مواقع موجود رہیں۔

الکعبی کے مطابق بنیادی ہنگامی منظرنامہ آبنائے ہرمز کی مکمل یا شدید بندش ہے۔ ایسی صورت میں عالمی گیس قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ قطر کی اپنی ایل این جی کارگو کی ترسیل محدود ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک سے پہلے سے معاہدہ شدہ گیس دستیاب ہونے کی صورت میں قطر انرجی مہنگی عالمی مارکیٹ میں ان کارگوز کی تجارت کر کے اس آمدنی کا کچھ حصہ حاصل کر سکتی ہے جو اپنی برآمدات رکنے سے متاثر ہوتا۔

یہ حکمت عملی قطر کی روایتی حیثیت سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ملک خود ایک بہت بڑا ایل این جی پروڈیوسر ہے۔ تاہم عالمی توانائی تجارت میں بڑی کمپنیاں صرف اپنی پیداوار فروخت نہیں کرتیں بلکہ مختلف خطوں سے خرید و فروخت کے معاہدے بھی رکھتی ہیں۔ اس سے انہیں کارگو کی منزل تبدیل کرنے، مختلف قیمتوں والی منڈیوں کے درمیان تجارت کرنے اور سپلائی میں خلل کے دوران مالی خطرہ کم کرنے کی گنجائش ملتی ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ قطر کی بیشتر ایل این جی برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں، اس لیے خطے میں جنگ یا جہاز رانی میں رکاوٹ براہ راست اس کی توانائی آمدنی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ الکعبی کے بیانات سے پہلی مرتبہ تفصیل سامنے آئی ہے کہ قطر انرجی اس جغرافیائی خطرے کو صرف بحری یا آپریشنل مسئلہ نہیں بلکہ تجارتی پورٹ فولیو کے ذریعے بھی منظم کرنا چاہتی ہے۔

کمپنی کی بیرونی ایل این جی خریداری کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش یقینی ہے۔ یہ ایک contingency یا خطرے سے بچاؤ کی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ممکنہ شدید خلل کے مالی اثرات محدود کرنا ہے۔ معاہدوں کی مکمل مقدار، قیمت اور تمام سپلائرز کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، اس لیے مستقبل میں اس حکمت عملی کی مالی کامیابی عالمی گیس قیمتوں، علاقائی سلامتی اور اصل سپلائی معاہدوں کی شرائط پر منحصر ہوگی۔