کراچی: قطر سے مائع قدرتی گیس لے کر آنے والا جہاز المروّنہ پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق جہاز پر تقریباً 81,936 میٹرک ٹن ایل این جی موجود ہے اور اس نے قطر سے پاکستان آتے ہوئے آبنائے ہرمز کا اہم سمندری راستہ عبور کیا۔ خطے میں جاری کشیدگی اور بحری نقل و حرکت سے متعلق خدشات کے باعث اس کارگو کی آمد پاکستان کی توانائی رسد کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان بجلی کی پیداوار، صنعت اور گھریلو و تجارتی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی استعمال کرتا ہے۔ قطر طویل عرصے سے پاکستان کے اہم ایل این جی سپلائرز میں شامل ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے توانائی کارگوز کے بارے میں خدشات بڑھائے ہیں، کیونکہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

المروّنہ کی پورٹ قاسم آمد سے کم از کم اس مخصوص کارگو کی ترسیل مکمل ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تاہم ایک جہاز کی آمد کو مجموعی توانائی رسد کے تمام خطرات ختم ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مستقبل کے کارگوز کی بروقت روانگی، بحری راستوں کی سکیورٹی، جہاز رانی کی انشورنس اور عالمی ایل این جی قیمتیں پاکستان کی درآمدی لاگت اور دستیابی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

علاقائی تنازع کے دوران توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے پاکستان کے لیے درآمدی بل اور گیس سپلائی مینجمنٹ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایل این جی کارگو میں تاخیر یا مہنگی خریداری کا اثر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، صنعتی صارفین اور گیس نظام کی مجموعی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے پورٹ قاسم پر قطری کارگو کی آمد کو رسد کے تسلسل کے نقطہ نظر سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دستیاب رپورٹ میں اس کارگو کی قیمت یا اس کی ری گیسیفیکیشن کے بعد مختلف شعبوں کو مختص ہونے والی گیس کی مقدار الگ سے نہیں بتائی گئی۔ بنیادی تصدیق یہ ہے کہ المروّنہ تقریباً 81,936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر پاکستان پہنچ چکا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں مزید کارگوز کی آمد اور عالمی توانائی منڈی کی صورتحال سے یہ واضح ہوگا کہ پاکستان کو رسد اور قیمت کے دباؤ میں کس حد تک کمی ملتی ہے۔