قطر سے تقریباً 82 ہزار ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آنے والا بحری جہاز المرونہ پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے۔ پورٹ کے ترجمان اسد الطاف کے مطابق جہاز قطر کے راس لفان ٹرمینل سے روانہ ہوا، پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرا اور جمعرات کی صبح کراچی کے قریب اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا۔
یہ 11 جولائی کے بعد قطر سے پاکستان آنے والی پہلی ایل این جی کھیپ ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے پہنچی ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باعث قطر انرجی کی طے شدہ کارگو فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس سے پاکستان میں ایل این جی کی مسلسل دستیابی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ تازہ کھیپ حکومت سے حکومت کے انتظام کے تحت حاصل کی گئی ہے اور اس سے بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی فراہمی میں عارضی سہارا ملنے کی توقع ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج سے عالمی توانائی تجارت کا نہایت اہم بحری راستہ ہے۔ خطے میں جاری تنازع اور بحری نقل و حرکت کے خطرات نے خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے بارے میں غیر یقینی بڑھا دی ہے۔ پاکستان درآمدی توانائی پر نمایاں انحصار رکھتا ہے، اس لیے اس راستے میں طویل رکاوٹ بجلی پیدا کرنے کے اخراجات، صنعتی سرگرمی اور صارفین کے لیے توانائی کی دستیابی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل بندش بھی دیکھی جا رہی ہے جبکہ عالمی اور علاقائی حالات کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے دوران روزانہ بنیادوں پر ایندھن کی قیمت طے کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
قطری کارگو کی آمد سے فوری سپلائی خدشات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اسے آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری تجارت کی مکمل بحالی نہیں سمجھا جا سکتا۔ مستقبل کی ایل این جی فراہمی کا انحصار خطے کی سکیورٹی، جہاز رانی کے حالات اور قطر سے طے شدہ کارگو کے شیڈول پر ہوگا۔ پاکستان اور قطر علاقائی سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں، تاہم توانائی سپلائی کے لیے عملی طور پر بحری راستوں کا کھلا اور محفوظ رہنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔




